
خلیج اردو
اسرائیلی فوج کی وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں غزہ میں مزید 62 فلسطینی شہید ہو گئے جبکہ امداد کے منتظر 13 شہریوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ غذائی قلت اور قحط کے باعث بچوں سمیت مزید 17 افراد دم توڑ گئے، جس کے بعد غذائی قلت سے جاں بحق ہونے والے بچوں کی تعداد 93 ہو گئی، مجموعی طور پر یہ تعداد 169 تک جا پہنچی ہے۔
یونیسیف کے مطابق غزہ میں ہر تین میں سے ایک فلسطینی کئی کئی دن بھوکا رہنے پر مجبور ہے۔ صورتحال کی سنگینی کے باوجود حماس نے آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام تک مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان کر دیا ہے۔
دوسری جانب امریکی ایلچی وٹکوف کے امدادی مراکز کے دورے کو حماس نے محض فوٹو شوٹ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ حقیقی امداد زمین پر نظر نہیں آ رہی۔
اسرائیلی آرمی چیف نے اعلان کیا ہے کہ یرغمالیوں کی رہائی تک لڑائی جاری رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں موجود اسرائیلی اسیران میں سے صرف 22 زندہ ہیں اور جنگ بندی اسی وقت ممکن ہو گی جب تمام اسیر رہا کیے جائیں گے۔







