
خلیج اردو
اسلام آباد:وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ایران پر اسرائیلی حملوں کا کوئی جواز نہیں تھا، نہ صرف حکومت بلکہ 24 کروڑ عوام نے اس کی مذمت کی۔ انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان اور ایران کی سوچ ایک ہے، خطے میں امن اور ترقی کے لیے دہشت گردی کے خلاف مل کر اقدامات اٹھائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ غزہ میں بے گناہ لوگوں کا خون بہایا جا رہا ہے، کشمیر کی آزادی کے بغیر تحریک آزادی مکمل نہیں ہوگی۔
دونوں ممالک نے آج کئی اہم مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے جنہیں جلد باضابطہ معاہدوں میں تبدیل کیا جائے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہمارا ہدف 10 ارب ڈالر کی باہمی تجارت ہے جو ہم جلد حاصل کریں گے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے پاکستان کو اپنا دوسرا گھر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی جارحیت کے خلاف پاکستان کی حمایت پر دل سے شکرگزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے علما کرام اور سیاسی قیادت سے مفید گفتگو ہوئی، عصر حاضر میں امت مسلمہ کے اتحاد کی سخت ضرورت ہے۔ ایرانی صدر نے کہا کہ اسرائیل خطے کو عدم استحکام کا شکار کرنے کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے، غزہ، لبنان اور شام میں جارحیت اسرائیلی مذموم عزائم کا حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی جارحیت خطے کے امن کو داؤ پر لگا رہی ہے، سلامتی کونسل کو اسرائیلی مظالم کا فوری نوٹس لینا چاہیے، امن کے لیے مسلمان ممالک کو متحد ہونا چاہیے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے پاک ایران بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات ایران کی خارجہ پالیسی کا اہم جزو ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مختلف شعبوں میں مفاہمتی یادداشتوں کا تبادلہ اہمیت کا حامل ہے، پاکستان اور ایران کے تعلقات مشترکہ ثقافت اور مذہب پر مبنی ہیں، پاکستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ سمندری اور زمینی راستوں کی ترقی کی اہم ضرورت ہے، شاعر مشرق علامہ اقبال کی شاعری کی اساس امت مسلمہ کا اتحاد ہے۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ ایران کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے کوشاں ہیں، دونوں ممالک تجارت میں حائل رکاوٹوں کو دور کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور پاکستان ایس سی او اور ای سی او فورم پر یکساں مؤقف رکھتے ہیں، سرمایہ کاروں کو بہترین ماحول کی فراہمی کے لیے پرعزم ہیں، پاکستان کے تمام معاشی اشاریے درست سمت میں گامزن ہیں، پاکستان میں مہنگائی اور پالیسی ریٹ میں مسلسل کمی آ رہی ہے۔
پاکستان اور ایران کے درمیان 13 معاہدوں اور سمجھوتوں پر دستخط کیے گئے جن میں سائنس و ٹیکنالوجی، آئی ٹی، سیاحت، ثقافت، میٹرولوجی، موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی آفات سے نمٹنے میں اشتراک، میری ٹائم سیفٹی اور فائر فائٹنگ کے شعبے میں تعاون، عدالتی معاونت و اصلاحات سے متعلق ایم او یو، 2013ء کے فضائی سلامتی معاہدے کے تحت ذیلی ایم او یو کا تبادلہ، مصنوعات کے معیارات پر عملدرآمد کے معاہدے پر مفاہمتی یادداشت، سیاحتی و ثقافتی تعاون کے فروغ سے متعلق معاہدہ، فری ٹریڈ ایگریمنٹ پر عملدرآمد کے لیے مشترکہ اسٹیٹمنٹ کی تیاری کا معاہدہ شامل ہیں۔ بحری امور، قانون و انصاف، داخلہ اور فضائی خدمات کے شعبوں میں متعدد یادداشتوں کا تبادلہ کیا گیا۔
ایران کی وزیر روڈز اینڈ اربن ڈویلپمنٹ فرزانہ صادق نے وفاقی وزرا عبدالعلیم خان، جام کمال اور حنیف عباسی سے ملاقات کی۔ عبدالعلیم خان نے ایرانی وزیر کو وزارتی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی۔ وزیر تجارت جام کمال نے کہا کہ پاک ایران تعلقات بھائی چارے پر مبنی ہیں، بلوچستان ایران سے تجارت پر انحصار کرتا ہے، نئی سرحدی مارکیٹس سے مقامی معیشت کو فائدہ ہوگا، زراعت، معدنیات، توانائی میں تعاون کی وسیع گنجائش موجود ہے۔
جام کمال نے کہا کہ بارٹر ٹریڈ پر فوری عملدرآمد کی ضرورت ہے، نان ٹیرف رکاوٹیں ختم کی جائیں، نجی شعبہ 10 ارب ڈالر تجارتی ہدف کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گا، دونوں ممالک ایک دوسرے کے لیے ٹریڈ مارکیٹ ثابت ہو سکتے ہیں۔ حنیف عباسی نے کہا کہ پاکستان سے زاہدان کے ریلوے ٹریک کو اپ گریڈ کرنے کے ساتھ ساتھ تعداد میں اضافہ کریں گے۔ فرزانہ صادق نے اسرائیلی جارحیت کے خلاف ساتھ دینے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کی جس میں دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ایرانی صدر کی وفد کے ہمراہ ایوان صدر آمد پر صدر آصف علی زرداری نے معزز مہمان کا مرکزی دروازے پر استقبال کیا۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان خیر سگالی کے کلمات کا تبادلہ ہوا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار بھی اس موقع پر موجود تھے۔ ایوان صدر آمد پر بچوں نے ایرانی صدر کو گلدستہ پیش کیا۔
ایرانی صدر کی وزیراعظم ہاؤس آمد پر وزیراعظم شہباز شریف نے شاندار استقبال کیا۔ دونوں رہنماؤں نے گرم جوشی سے مصافحہ کیا۔ دونوں ممالک کے قومی ترانے بجائے گئے۔ مہمان صدر کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ وزیراعظم اور ایرانی صدر نے اپنے اپنے وفود کا تعارف کرایا۔ ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے وزیراعظم ہاؤس میں پودا بھی لگایا۔ مسعود پزشکیان فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات بھی کریں گے۔






