
خلیج اردو
غزہ – اسرائیلی محاصرے اور جاری بمباری نے مظلوم فلسطینیوں کی زندگی کو اذیت ناک بنا دیا ہے۔ ناصر ہسپتال میں زیر علاج پانچ ماہ کی شیر خوار بچی سیوار عاشور شدید غذائی قلت کا شکار ہو گئی ہے۔ بچی کا وزن صرف دو کلوگرام رہ گیا ہے، جب کہ اس عمر کی صحت مند بچی کا وزن عموماً چھ کلوگرام ہوتا ہے۔
سیوار کو ایک خاص قسم کے دودھ کی ضرورت ہے کیونکہ اسے عام دودھ سے الرجی ہے۔ تاہم اسرائیلی محاصرے کی وجہ سے دودھ اور دیگر غذائی اشیاء کی فراہمی تقریباً بند ہو چکی ہے۔ ہسپتال سے ڈسچارج کیے جانے کے بعد بچی کی حالت مزید بگڑ رہی ہے کیونکہ دودھ ختم ہو چکا ہے اور مناسب خوراک میسر نہیں۔
سیوار کی والدہ نجوا عاشور خود بھی غذائی قلت کا شکار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’بچی کو مسلسل بھوک لگی رہتی ہے، دودھ دستیاب نہیں، مکھیاں بھی اسے بہت پریشان کرتی ہیں، ہم اسے ہر وقت کپڑے یا اسکارف سے ڈھانپ کر رکھتے ہیں تاکہ اسے سکون ملے۔‘‘
غزہ میں جاری صیہونی جارحیت نے نہ صرف معصوم جانیں چھینیں بلکہ بچوں، خواتین اور بزرگوں کو بنیادی ضروریاتِ زندگی سے بھی محروم کر دیا ہے۔ عالمی برادری کی خاموشی اس انسانی المیے کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔






