عالمی خبریں

ٹیکساس میں ایم کیو ایم لندن کی رہنما کہکشاں حیدر کو آٹھ سال قید کی سزا

خلیج اردو
امریکی ریاست ٹیکساس کی وفاقی عدالت نے ایم کیو ایم لندن کی 54 سالہ رہنما کہکشاں حیدر کو بین الاقوامی دہشت گردی سے متعلق جھوٹے بیانات دینے کے جرم میں آٹھ سال قید کی سزا سنادی ہے۔ عدالت میں انہوں نے اعتراف کیا کہ انہوں نے کراچی میں دہشت گردی سے جڑے معاملات کے بارے میں جھوٹے بیانات دیے تھے، جس پر انہیں وفاقی قوانین کی خلاف ورزی کے تحت یہ سخت سزا سنائی گئی۔ عدالت نے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس مقدمے میں قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔

بی بی سی اردو کے مطابق جنوری 2023 میں کہکشاں حیدر نے پاکستان میں ایک شخص کو کراچی کے دو پیٹرول پمپوں پر آتش گیر مواد سے حملے کرنے کے لیے بھرتی کیا۔ یہ پیٹرول پمپ پنجابی مالکان کی ملکیت تھے۔ انہوں نے اپنے ساتھی کے ساتھ ہدف کے مقامات کے انتخاب، آتش گیر مادہ، حملوں سے قبل چھپنے کی جگہیں، حملے کے بعد فرار کے طریقہ کار، اور حملہ آوروں کے لیے دو ہتھیار خریدنے کے انتظامات سے متعلق تفصیلی بات چیت کی تاکہ کارروائی کی کامیابی یقینی بنائی جا سکے۔

رپورٹ کے مطابق کہکشاں حیدر نے امریکہ میں موجود ایم کیو ایم کے ہمدردوں سے فنڈز جمع کیے اور یہ رقم پاکستان بھجوائی گئی تاکہ حملوں کی ادائیگی اور انتظامات مکمل کیے جا سکیں۔ بی بی سی اردو کا کہنا ہے کہ 20 فروری 2023 کو پاکستان میں موجود ان کے ساتھی نے انہیں کراچی کے ایک پیٹرول پمپ پر آتش گیر حملے کی تصاویر بھیجیں جن میں چھ افراد کے جھلسنے کا ذکر تھا۔ کہکشاں نے اس خبر پر خوشی کا اظہار کیا اور اپنے ساتھی سے کہا کہ اس کام کے بدلے انہیں بڑا انعام ملے گا۔

تاہم ایک روز بعد انٹرنیٹ پر تلاش کے دوران انہیں معلوم ہوا کہ یہ تصاویر دراصل اکتوبر 2022 کے ایک پرانے واقعے کی تھیں۔ اس پر وہ شدید برہم ہوئیں اور اپنے ساتھی پر دھوکہ دہی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وہ ایم کیو ایم کے نام پر دھبہ ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button