خلیج اردو آن لائن:
کورونا وائرس کی علامات میں سانس لینے میں دشواری بھی شامل ہے۔ ایسے مریض جنہیں سانس لینے میں دشورای پیدا ہوتی ہے انہیں منصوعی سانس لینے کی مشین یعنی وینٹلیٹر پر ڈال دیا جاتا۔
کورونا کے شدید بیمار مریضوں کو ونٹیلیٹر لگا دینے کے بعد الٹا یعنی پیٹ کے بل لٹایا جاتا ہے تاکہ مریض کو سانس لینے میں آسانی رہے اور اموات سے بچا جا سکے۔
تاہم اب ایک نئی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ الٹا لٹائے جانے سے بھی بعض کمزور مریض اعصاب کے مستقل نقصان کا شکار ہو سکتے ہیں۔
برٹش جرنل اور انستھیزیا میں شائع ہونی والی تحقیق کے مطابق اعصاب کو نقصان پہنچنا دراصل خون کے بہواؤ میں کمی اور سوزش کا نتیجہ ہے۔ اور اس پوزیشن میں ونٹیلیٹر پر موجود کسی اور مرض میں مبتلا مریضوں کو شازو نادر ہی اعصابی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
امریکہ میں نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے اس تحقیق کے مصنف کولن فرانز کا کہنا تھا کہ "اعصابی نقصان کا شکار ہونے والے مریضوں کی شرح دیگر شدید بیمار مریضوں کی نسبت بہت زیادہ ہے”۔
فرانز کا مزید کہنا تھا کہ” عام طور پر شدید بیمار لوگ اس پوزیشن کو برداشت کر سکتے ہیں، جو کہ انہیں سانس لینے میں دیتی ہے۔ لیکن کورونا کے مریض وہ اس قوت کو برداشت نہیں کر سکتے جو دیگر افراد عام طور پر کر لیتے ہیں”۔
اس تحقیق کے مطابق کورونا کے شدید بیمار مریضوں میں 12 سے 15 فیصد اعصاب کے مستقل نقصان کا شکار ہوئے ہیں۔ اور دنیا بھر میں ان لوگوں کی تعداد ہزاروں میں بنتی ہے۔
اس تحقیق کے مصنف کا مزید کہنا تھا کہ "اعصاب کو ہونے والا یہ نقصان نظر انداز ہوگیا ہے کیونکہ عام طور پر شدید بیمار لوگوں کے کمزور ہوجانے کی توقع ہوتی ہے”۔
فرانز کا کہنا تھا کہ "ہم نے دیکھا کہ مریض کہنی یا گردن پر شدید دباؤ محسوس کر رہے ہیں، لہذا ہم نے جوڑوں کی پوزیشن کو تبدیل کیا اور کہنی یا ٹخنے میں جہاں پریشر زیادہ ہوتا ہے وہاں پیڈز کی تعداد بڑھا دی”۔
اس پوزیشن کے باعث عام طور پر اعصاب کو ہونے والے نقصان میں کہنی کا مفلوج ہوجانا، پیروں کا مفلوج ہو جانا، ہاتھ کا کام کرنا چھوڑ دینا اور اکڑے ہوئے کندھے شامل ہیں۔ ایسے مریض جن کو پاؤں کھینچ کے چلنا پڑ رہا ہے انہیں وہیل چیئر یا چھڑی کی ضرورت ہے۔
فرانز کا کہنا تھا کہ اعصاب کو پہنچنے والے اس نقصان کا مطلب” چلنے میں مستقل دشواری یا موبائل کے استعمال یا لکھنے میں مستقل دشواری ہے”۔
Source: Khaleej Times







