
خلیج اردو
12 ستمبر 2020
اسلام آباد: پاکستان میں جنسی زیادتی کے حالیہ واقعات کے بعد سوشل میڈیا پر یہ مطالبہ کیا جارہا ہے کہ جنسی زیادتی کرنے والوں کو سرعام پھانسی دی جائے۔ HangRapistsPublically کے ہیش ٹیگ سے ہزار کی تعداد میں ٹویٹس کیے گئے ہیں جس میں لوگ یہ مطالبہ کررہے ہیں کہ جو لوگ ریپ کریں انہیں عبرت کا نشانہ بنایا جائے اور اس کیلئے انہیں عوام کے سامنے پھانسی دی جائے۔
اس مطالبے کے ساتھ ساتھ لوگ پاکستان کے سابقہ ڈکٹیٹر جنرل ضیاء الحق کے دور کا حوالہ دے رہے ہیں جس میں زیادتی کرنے والوں کو سرعام پھانسی دی جاتی تھی ۔
اس حوالے سے وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے کچھ ٹویٹس میں ضیاء دور کی سزاؤں کے مطالبات پر ردعمل میں حقائق پیش کیے ہیں۔
For those claiming there were no rapes during brutal Zia dictatorship they are factually wrong. Zia introduced Hudood Ordinances requiring identification of rapists & 4 witnesses to prove rape. So many rape cases converted into adultery cases & women victims punished.
— Shireen Mazari (@ShireenMazari1) September 12, 2020
اپنی ٹویٹ میں شیریں مزاری نے سفیہ بی بی کیس کا حوالے دیتے ہوئے کہا ہے کہ ضیاء دور میں حدود آرڈیننس جاری ہوا تھا جس میں زیادتی کا شکار ہونے والی خاتون کو چار گواہ پیش کرنے ہوتے تھے۔ بصورت دیگر زیادتی کی شکایت کرنے والے کو تہمت لگانے کے الزام میں کوڑے مارے جاتے تھے۔
انہوں نے لکھا ہے کہ ایک نابینا خاتون سفیہ بی بی کا ریپ ہوا تو انہیں بتایا گیا کہ اپنے ساتھ زیادتی کرنے والوں کو شناخت کرکے چار گواہ پیش کیے جائیں۔ چونکہ وہ کچھ دیکھ نہیں پاتی تھی تو اسی وجہ سے ان کیلئے ریپ کرنے والوں کو پہچاننا ممکن نہیں تھی ۔ چنانچی ریپ کا شکار ہونے والی سفیہ بی بی پر زنا کا الزام عائد کرکے انہیں کوڑے مارے گئے۔
Remember Safia Bibi case – a blind teenager who was raped. Under the Zia laws she had to identify the people who raped her. Being blind she obviously could not. So she was convicted of fornication & sentenced to be lashed. That was the brutal Zia era for women.
— Shireen Mazari (@ShireenMazari1) September 12, 2020
ضیاء دور میں لوگوں کو سرعام سزاؤں کو غیر انسانی قرار دیتے ہوئے وزیر انسانی حقوق نے کہا یہ ایک تاریک دور تھا جس میں عوام کو ڈراؤنا کھیل دیکھایا جاتا تھا۔ ان سزاؤں نے سے جرائم میں کوئی کمی نہیں آئی تاہم لوگوں کے اذہان کو متشدد بنایا۔
Also Zia's intro of regular public lashings often in stadiums became cruel entertainment for public. Never stopped crimes being committed but violence pervaded our mindsets. The Protection of Women (Criminal Laws Amendment) Act 2006 amended Hudood Ordinance. Now PPC covers rape.
— Shireen Mazari (@ShireenMazari1) September 12, 2020
مزاری نے کہاکہ اس ظالمانہ آرڈیننس کو 2006 میں جرائم کے قوانین میں ترمیم کرکے ختم کیا گیا۔ اب پاکستان پینل کورٹ ریپ کے معاملات دیکھتا ہے۔







