عالمی خبریں

اسرائیل-ایران تنازع: متحدہ عرب امارات کے رہائشیوں پر پیٹرول، سونا اور فضائی کرایوں میں ممکنہ اثرات

خلیج اردو
اگرچہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری اسرائیل-ایران کشیدگی کے باوجود متحدہ عرب امارات ایک محفوظ ملک ہے، تاہم اس جنگ کے کچھ بالواسطہ اثرات یہاں کے رہائشیوں پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ ان اثرات میں جولائی میں پیٹرول کی قیمتوں میں ممکنہ اضافہ، سونے کے زیورات کی قیمتوں میں اضافہ، اور کچھ بین الاقوامی سفری راستوں کے لیے ہوائی کرایوں میں اضافہ شامل ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، ان ممالک سے درآمد ہونے والی اشیائے صرف کی قیمتیں بھی بڑھ سکتی ہیں جنہوں نے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں۔

پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ
جمعے کے روز اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں 14 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا۔ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت 72.98 ڈالر فی بیرل اور برینٹ کی قیمت 74.23 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جو بالترتیب 7.26 اور 7.02 فیصد کا اضافہ ہے۔

یاد رہے کہ متحدہ عرب امارات میں 2015 سے پیٹرول کی قیمتیں عالمی مارکیٹ کے مطابق ماہانہ بنیادوں پر مقرر کی جاتی ہیں۔ چونکہ دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے تیل کے ذخائر کو نشانہ بنایا ہے، اس لیے جب مارکیٹ پیر کو دوبارہ کھلے گی تو قیمتوں میں مزید اضافہ متوقع ہے، جس کا اثر جولائی میں یو اے ای میں پیٹرول کی قیمتوں پر پڑ سکتا ہے۔

لندن میں مقیم تجزیہ کار نعیم اسلم کے مطابق:
"ایران کے میزائل حملے اور اسرائیل کی جانب سے جوابی کارروائی کا اعلان یہ ظاہر کرتا ہے کہ کشیدگی سنگین رخ اختیار کر سکتی ہے، خاص طور پر جب ہدف توانائی کے بنیادی ڈھانچے ہوں۔”

سونے کے زیورات کی قیمتیں بڑھنے کا امکان
جنگی اور تجارتی تنازعات کے دوران سونا ہمیشہ سرمایہ کاروں کے لیے ایک محفوظ اثاثہ رہا ہے۔ اسرائیل-ایران کشیدگی کے آغاز سے اب تک دبئی میں فی گرام سونے کی قیمت میں تقریباً 5 درہم اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اتوار کو 24 قیراط سونا 413.5 درہم فی گرام پر فروخت ہو رہا تھا۔

گرمیوں کی چھٹیوں میں یو اے ای کے رہائشیوں کی بڑی تعداد بیرون ملک سفر کے دوران سونے کے زیورات خریدتی ہے، لیکن اب انہیں زیادہ قیمت ادا کرنا پڑ سکتی ہے، جس سے مانگ متاثر ہونے کا امکان ہے۔

نعیم اسلم کا مزید کہنا تھا:
"جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھتی ہے، تو سونا واحد محفوظ پناہ گاہ بن جاتا ہے۔ تیل کی قیمتیں 6 سے 13 فیصد تک بڑھ چکی ہیں، اور یہ صرف آغاز ہے۔ سونا ایک دانشمندانہ سرمایہ کاری ہے جو مارکیٹ کے بحران سے بچاؤ میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔”

فضائی کرایوں میں اضافہ
فلائٹ ریڈار 24 کے مطابق، کشیدگی کے باعث روزانہ تقریباً 3,000 پروازیں منسوخ یا متبادل راستوں پر موڑی جا رہی ہیں، جس میں یو اے ای کی ایئرلائنز — ایمریٹس، فلائی دبئی، اتحاد ایئرویز، اور ایئر عربیہ — بھی شامل ہیں۔

ان ایئرلائنز نے ایران، عراق، اسرائیل، اور اردن کے لیے پروازیں معطل کر دی ہیں، جس کے باعث کئی مسافروں کو اپنے سفر مؤخر کرنا پڑا ہے۔ جیسے ہی خطے میں امن قائم ہو گا، فوری طور پر سفری رش بڑھنے کے باعث ہوائی کرایوں میں اضافہ متوقع ہے۔

اشیائے صرف کی قیمتوں میں اضافہ
ان ممالک سے درآمد ہونے والی اشیاء کی قیمتوں میں بھی اضافہ ممکن ہے جنہوں نے جنگ کے باعث اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں، جیسے ایران، عراق، شام، اردن، اور اسرائیل۔

سپلائی چین میں خلل کے باعث اشیاء کی درآمد و برآمد میں تاخیر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتیں بڑھیں گی۔ مثال کے طور پر، ایران سے یو اے ای کو معدنیات، نامیاتی کیمیکل، پھل و سبزیاں، قالین، ڈیری مصنوعات اور کھاد جیسی اشیاء برآمد کی جاتی ہیں، جن کی دستیابی متاثر ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button