خلیج اردو – العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سیکڑوں مظاہرین نے پارلیمان کی عمارت کی جانب کوشش کی تھی لیکن سکیورٹی فورسز نے انھیں اس طرف جانے سے روک دیا اور اس دوران میں ان میں دھینگا مشتی ہوئی ہے،انھوں نے ایک دوسرے پر پتھراؤ کیا ہے۔دوسری جانب مشتعل مظاہرین نے موقع سے فائدہ اٹھا کر وزارتِ خارجہ کی عمارت پر دھاوا بول دیا
لبنانی شہری حکمران سیاسی اشرافیہ کو چار اگست کو بیروت کی بندرگاہ کے نزدیک تباہ کن دھماکے کا ذمے دار قرار دے رہے ہیں اور وہ حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ لبنانی حکام نے ہفتے تک بیروت بندرگاہ پر ایک گودام میں تباہ کن دھماکے کے نتیجے میں 158 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے اور چھے ہزار سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں







