
خلیج اردو
واشنگٹن، 23 جون 2025ء
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر دفاع اور دیگر سینئر حکام نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملوں کی لمحہ بہ لمحہ نگرانی وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں کی۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، فردو کی جوہری تنصیب پر کیے گئے حملے میں امریکا نے 6 بنکر بسٹر بم استعمال کیے جبکہ اصفہان اور نطنز سمیت دیگر مقامات پر 30 ٹوماہاک کروز میزائل داغے گئے۔
حملے کے دوران جدید ترین بی-2 اسٹریٹیجک اسٹیلتھ بمبار طیاروں کو استعمال کیا گیا جنہوں نے انتہائی خفیہ اور نشانے پر لگنے والے بموں سے جوہری اہداف کو نشانہ بنایا۔ بنکر بسٹر بم خاص طور پر زیرِ زمین تنصیبات کو تباہ کرنے کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ کا فی الوقت ایران پر مزید حملوں کا کوئی ارادہ نہیں، اور انہیں امید ہے کہ ان فضائی کارروائیوں کے بعد ایران مذاکرات کی راہ اپنائے گا۔ حکام کے مطابق فی الحال ایران میں حکومت کی تبدیلی کا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں ہے۔
یہ حملے اس وقت کیے گئے جب عالمی برادری کشیدگی میں کمی اور سفارتی حل پر زور دے رہی ہے، مگر امریکی حکمتِ عملی اس وقت سخت پیغام رسانی اور دفاعی حملوں پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔






