
خلیج اردو
تہران / تل ابیب، 23 جون 2025ء
ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملے کے ردعمل میں ایران نے اسرائیل پر ڈرونز اور میزائلوں کی شدید بارش کر دی۔ ایرانی حملوں میں پہلی بار 2,000 کلومیٹر تک وار کرنے والے جدید خیبر بیلسٹک میزائل استعمال کیے گئے، جنہوں نے اسرائیل کے کئی شہروں کو ہلا کر رکھ دیا۔ تل ابیب، مقبوضہ بیت المقدس اور حیفا میں متعدد دھماکوں کی اطلاعات ہیں، جن میں اب تک 86 اسرائیلی شہری زخمی ہو چکے ہیں، جن میں سے کئی کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔
ترجمان پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل کے 14 اسٹریٹجک اہداف کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا، جن میں بن گوریون بین الاقوامی ہوائی اڈہ، حیفا کا حیاتیاتی تحقیقی مرکز، اہم معاون فضائی اڈے، اور مختلف کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز شامل ہیں۔
ایرانی میزائل حملے کے بعد اسرائیل بھر کے 400 سے زائد شہروں، قصبوں اور علاقوں میں جنگی سائرن بجنا شروع ہو گئے، جس پر شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور بڑی تعداد میں لوگ محفوظ پناہ گاہوں کی طرف دوڑنے لگے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق حیفا اور تل ابیب میں کئی مقامات پر عمارتیں منہدم ہو گئیں اور ملبے تلے دبے افراد کی تلاش کا سلسلہ جاری ہے۔
یہ حملے خطے میں جنگ کے باقاعدہ آغاز کا اشارہ دے رہے ہیں اور ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ ایک خطرناک اور ممکنہ طور پر طویل جنگ کی دہلیز پر کھڑا ہے۔






