
دبئی: متحدہ عرب امارات کے صدر، عزت مآب شیخ محمد بن زاید النہیان آج سہ پہر ایک تاریخی سرکاری دورے پر بھارت پہنچ رہے ہیں۔ یہ دورہ دنیا کے سب سے متحرک دوطرفہ تعلقات میں سے ایک کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے—ایسا تعلق جو صدیوں پرانے ثقافتی رشتوں پر قائم ہے اور جدید معاشی عزم سے تقویت پا رہا ہے۔
یہ بطور صدر شیخ محمد بن زاید کا بھارت کا تیسرا سرکاری دورہ اور گزشتہ ایک دہائی میں پانچواں دورہ ہے، جو اس بات کی واضح عکاسی کرتا ہے کہ یو اے ای اور بھارت کے تعلقات روایتی دوستی سے آگے بڑھ کر ایک جامع اسٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل ہو چکے ہیں۔
شیخ محمد بن زاید اس سے قبل بطور صدر 9 تا 10 ستمبر 2023 اور 9 تا 10 جنوری 2024 کو بھارت کا دورہ کر چکے ہیں، جبکہ بطور ولی عہد ابوظہبی انہوں نے 10 تا 12 فروری 2016 اور 24 تا 26 جنوری 2017 میں بھارت کے دورے کیے تھے۔
صدرِ یو اے ای کا یہ تازہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب دوطرفہ تجارت 2024-25 میں علامتی حد یعنی 100 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ یو اے ای میں مقیم 43 لاکھ سے زائد بھارتی تارکینِ وطن—جو ملک کی مجموعی آبادی کا تقریباً 35 فیصد ہیں—دونوں ممالک کے درمیان عوامی سطح کے تعلقات کی مضبوط بنیاد ہیں۔
آج شیخ محمد بن زاید بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی سے دوطرفہ ملاقات کریں گے، جس میں اسٹریٹجک، معاشی اور ثقافتی تعاون کو مزید فروغ دینے کے امکانات پر غور کیا جائے گا۔
بھارتی وزارتِ خارجہ (MEA) نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں بھارت اور یو اے ای کے مضبوط، اسٹریٹجک اور کثیرالجہتی تعلقات کے اہم حقائق اور اعداد و شمار پیش کیے گئے ہیں۔
### تجارت کی طاقت
اعداد و شمار معاشی انضمام کی ایک شاندار تصویر پیش کرتے ہیں۔ یو اے ای بھارت کا تیسرا بڑا تجارتی شراکت دار ہے، جبکہ بھارت یو اے ای کا دوسرا بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ مالی سال 2024-25 میں بھارت کی جانب سے یو اے ای سے درآمدات کی مالیت 63 ارب ڈالر سے زائد رہی۔
بھارت کے لیے یو اے ای دوسرا بڑا برآمدی مرکز ہے، جہاں اسی مالی سال میں برآمدات 37 ارب ڈالر تک پہنچیں۔ فروری 2022 میں دونوں ممالک کے درمیان جامع اقتصادی شراکت داری معاہدہ (CEPA) طے پایا، جس نے تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھول دیے۔
اپریل 2000 کے بعد سے یو اے ای کی جانب سے بھارت میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) 22 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔ صرف 2024-25 میں یو اے ای نے 4.3 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے ساتھ بھارت میں پانچواں بڑا سرمایہ کار ملک ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ مجموعی طور پر یو اے ای بھارت میں ساتواں بڑا ایف ڈی آئی سرمایہ کار ہے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ یو اے ای نے بھارت کے انفراسٹرکچر میں 75 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا عزم ظاہر کیا ہے، جو بھارت کی طویل المدتی ترقی پر اعتماد کی علامت ہے۔ فروری 2024 میں دبئی کے جبل علی فری زون میں ’’بھارت مارٹ‘‘ کا سنگِ بنیاد رکھا گیا، جو دوطرفہ سرمایہ کاری کے عملی نتائج کی واضح مثال ہے۔
### اسٹریٹجک سنگِ میل
2017 میں دونوں ممالک نے اپنے تعلقات کو جامع اسٹریٹجک شراکت داری کی سطح پر فائز کیا۔ اس کے بعد اعلیٰ سطحی روابط میں تسلسل رہا، جن میں دسمبر 2025 میں ابوظہبی میں منعقد ہونے والا 16واں مشترکہ کمیشن اجلاس اور 5واں اسٹریٹجک ڈائیلاگ شامل ہیں۔
اگست 2019 میں شیخ محمد بن زاید نے وزیرِ اعظم نریندر مودی کو یو اے ای کا اعلیٰ ترین سول اعزاز ’’آرڈر آف زاید‘‘ عطا کیا، جو دوطرفہ تعلقات کی غیر معمولی اہمیت کی علامت ہے۔
مالیاتی تعاون میں بھی جدت آئی ہے۔ جولائی 2023 میں بھارتی روپے اور اماراتی درہم میں سرحد پار لین دین کے فروغ کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے۔ بھارت کا یو پی آئی اور روپے کارڈ سسٹم اب یو اے ای میں فعال ہے، جس سے ڈیجیٹل ادائیگیوں میں سہولت پیدا ہوئی ہے۔
ستمبر 2023 میں جی 20 بھارت سمٹ کے دوران شروع کیا گیا ’’انڈیا-مڈل ایسٹ-یورپ اکنامک کوریڈور‘‘ عالمی تجارت اور رابطہ کاری کے ایک نئے وژن کی نمائندگی کرتا ہے۔
### توانائی اور ماحولیات
توانائی تعاون اس شراکت داری کا اہم ستون ہے۔ یو اے ای بھارت کے لیے خام تیل، ایل این جی اور ایل پی جی کے بڑے ذرائع میں شامل ہے، جو بھارت کی توانائی سلامتی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
روایتی توانائی کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک سبز اقدامات میں بھی پیش پیش ہیں۔ جنوری 2023 میں گرین ہائیڈروجن کے شعبے میں تعاون کے لیے معاہدہ ہوا، جبکہ ستمبر 2023 میں یو اے ای نے بھارت کے ساتھ مل کر گلوبل بایوفیولز الائنس کی بنیاد رکھی۔
دسمبر 2023 میں دبئی میں منعقدہ کوپ 28 کے دوران وزیرِ اعظم مودی نے گلوبل گرین کریڈٹ انیشی ایٹو کا آغاز کیا، جو موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے میں دونوں ممالک کے اشتراک کی مثال ہے۔
### دفاعی تعاون
بھارت اور یو اے ای کے درمیان دفاعی تعاون میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ جولائی 2024 میں 13واں مشترکہ دفاعی تعاون کمیٹی اجلاس منعقد ہوا۔ دسمبر 2025 میں دوطرفہ فوجی مشق ’’ڈیزرٹ سائیکلون-ٹو‘‘ اور اکتوبر 2024 میں بحری مشق ’’گلف ویوز‘‘ منعقد کی گئی۔
دونوں ممالک نے ملان، ترنگ شکتی اور ڈیزرٹ فلیگ جیسی کثیرالقومی مشقوں میں بھی حصہ لیا۔ اپریل تا مئی 2025 میں بھارتی فضائیہ کا سب سے بڑا دستہ ڈیزرٹ فلیگ مشق میں شریک ہوا۔
### عالمی تعاون
دوطرفہ تعلقات کے علاوہ بھارت اور یو اے ای عالمی فورمز پر بھی قریبی تعاون کرتے ہیں، جن میں برکس، آئی ٹو یو ٹو (امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ) اور یو ایف آئی سہ فریقی فورم شامل ہیں۔ یو اے ای کو بھارت کی جی 20 صدارت کے دوران مہمان ملک کے طور پر بھی مدعو کیا گیا۔
### عوام اور ثقافت
بھارت اور یو اے ای کے تعلقات کی اصل طاقت عوامی روابط ہیں۔ یو اے ای میں دنیا بھر میں سب سے زیادہ بھارتی پاسپورٹ ہولڈرز مقیم ہیں—43 لاکھ سے زائد—جو ملک کی آبادی کا 35 فیصد بنتے ہیں۔
بھارتی تارکینِ وطن کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر دنیا میں بلند ترین سطح پر ہیں۔ ثقافتی روابط بھی گہرے ہیں؛ فروری 2024 میں ابو ظہبی میں ’’اہلاً مودی‘‘ تقریب میں تقریباً 40 ہزار افراد نے شرکت کی۔
یوگا، بھارتی فلمیں اور ٹی وی پروگرام یو اے ای میں بے حد مقبول ہیں۔ تعلیمی روابط بھی تیزی سے بڑھ رہے ہیں: ستمبر 2024 میں آئی آئی ٹی دہلی کا ابو ظہبی کیمپس، ستمبر 2025 میں آئی آئی ایم احمد آباد کا دبئی کیمپس، اور ایکسپو سٹی دبئی میں بھارتی اداروں کے منصوبے اس کی مثال ہیں۔ یو اے ای میں 100 سے زائد بھارتی نصاب کے اسکول بھی فعال ہیں۔
فروری 2024 میں وزیرِ اعظم مودی نے ابو ظہبی میں بی اے پی ایس ہندو مندر کا افتتاح کیا، جو مذہبی ہم آہنگی اور بھارتی برادری کے لیے ایک تاریخی لمحہ تھا۔
فروری 2022 میں دونوں ممالک نے مشترکہ یادگاری ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا، جس میں بھارت کی آزادی کے 75 سال، یو اے ای کے قیام کے 50 سال اور بھارت-یو اے ای سفارتی تعلقات کے 50 سال کی تکمیل کو یاد کیا گیا۔
یہ تمام پہلو اس بات کا ثبوت ہیں کہ بھارت اور یو اے ای کا تعلق محض سفارتی یا تجارتی نہیں بلکہ ایک مضبوط، دیرپا اور عوامی بنیادوں پر قائم شراکت داری ہے۔







