
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے واضح کیا ہے کہ وہ بنگلہ دیش کے میچز بھارت سے منتقل نہ ہونے کی صورت میں بھی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا بائیکاٹ نہیں کرے گا۔ پی سی بی کے قریبی ذرائع کے مطابق یہ مؤقف پاکستان کا نہیں کہ وہ آئی سی سی ایونٹ سے دستبردار ہو، کیونکہ پاکستان کے میچز پہلے ہی سری لنکا میں کھیلے جا رہے ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ بعض رپورٹس محض معاملے کو ہوا دینے کے لیے سامنے آتی ہیں۔ اس سے قبل پاکستانی میڈیا کے کچھ حلقوں میں یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ پاکستان نے ورلڈ کپ کی تیاری روک دی ہے، تاہم حکام کے مطابق ٹیم مینجمنٹ کو بعد میں آئندہ لائحہ عمل سے آگاہ کیا جائے گا اور ممکنہ صورتحال کے لیے متبادل منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
پاکستان نے بنگلہ دیش کے اس فیصلے کی حمایت کی ہے جس میں اس نے سیکیورٹی خدشات کے باعث بھارت جانے سے انکار کیا ہے۔ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے آئی سی سی کو خط لکھ کر مطالبہ کیا تھا کہ ورلڈ کپ میں بنگلہ دیش کے میچز بھارت سے باہر منتقل کیے جائیں، تاہم آئی سی سی کی سیکیورٹی ٹیم نے بھارتی مقامات پر سیکیورٹی خطرات کو نہ ہونے کے برابر قرار دیا ہے۔
بی سی بی نے گروپ تبدیلی کی تجویز بھی دی، جس کے تحت بنگلہ دیش کو گروپ بی میں منتقل کیا جائے، جہاں میچز سری لنکا میں شیڈول ہیں، مگر آئی سی سی کی جانب سے شیڈول میں تبدیلی کا امکان کم ہے۔ بنگلہ دیش کو 21 جنوری شام 5 بجے (دبئی وقت) تک آئی سی سی کو اپنا حتمی فیصلہ دینا ہوگا۔ اگر بنگلہ دیش ٹورنامنٹ سے دستبردار ہوتا ہے تو اسے پوائنٹس کی منسوخی اور مالی جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔





