
خلیج اردو
کیف/ماسکو: یوکرین کی جانب سے حالیہ ڈرون حملوں پر مشتمل آپریشن ’اسپائیڈر ویب‘ کو عسکری ماہرین مستقبل کی جنگوں کی نئی شکل قرار دے رہے ہیں، جو نہ صرف میدانِ جنگ کی نوعیت کو بدل سکتا ہے بلکہ عالمی سطح پر سکیورٹی پالیسیوں پر گہرے اثرات ڈال سکتا ہے۔
2 جون کو کیے گئے اس آپریشن میں یوکرین نے روسی حدود کے اندر واقع موروزووسک اور بیلایا ایئر بیسز پر ڈرون حملے کیے، جن میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے بمبار طیاروں اور انٹیلی جنس اثاثوں کو نشانہ بنایا گیا۔ حملوں میں یوکرین کے اندر ہی تیار کیے گئے مصنوعی ذہانت سے لیس ڈرونز استعمال کیے گئے۔
مغربی پالیسی میں ممکنہ تبدیلی
روئل یونائیٹڈ سروسز انسٹیٹیوٹ (RUSI) سے منسلک تجزیہ کار سیموئیل رامانی نے کہا کہ یہ آپریشن مغربی عسکری پالیسی میں بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ "یورپ اور امریکہ اب ممکنہ طور پر یوکرین کو روس کے اندر اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے رینج کی پابندیاں ختم کرنے پر رضامند ہو سکتے ہیں۔”
رامانی نے مزید کہا کہ اب یوکرین محض بمبار طیاروں ہی نہیں بلکہ روسی گولہ بارود کے ذخائر، اسلحہ ڈپو اور حملے سے قبل دشمن افواج کو بھی نشانہ بنا سکے گا۔
مستقبل کی جنگوں کی جھلک
ماہرین کے مطابق، مصنوعی ذہانت سے چلنے والے ڈرونز کا استعمال نہ صرف روس-یوکرین جنگ بلکہ دنیا بھر میں مستقبل کے تنازعات کے لیے ایک مثال بن سکتا ہے۔ خاص طور پر تائیوان جیسے ممالک بھی اس ماڈل کو اپنی دفاعی تیاریوں میں شامل کر سکتے ہیں۔
رامانی کا کہنا تھا کہ "یہ آپریشن یوکرینی تکنیکی مہارت اور جنگی تیاری کا عکاس ہے، جس پر 18 ماہ تک کام کیا گیا۔ اس حملے نے روسی فوجی ڈھانچے کے اہم حصے مفلوج کر دیے۔”
جوابی حملہ اور روس کا ردعمل
7 جون کو روسی صدر ولادیمیر پوتن نے سخت ردعمل دیا اور خارکیف شہر پر جنگ شروع ہونے کے بعد کا "سب سے طاقتور” حملہ کیا۔ خارکیف کے میئر کے مطابق، شہر پر 40 سے زائد دھماکوں کی اطلاع ملی، جن میں کم از کم ایک شہری جاں بحق اور 18 دیگر زخمی ہوئے، جن میں چار بچے بھی شامل ہیں۔
علاقائی استحکام پر خطرات
بین الاقوامی سکیورٹی تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اس نوعیت کے حملے علاقائی استحکام کو متزلزل کر سکتے ہیں۔ انٹرنیشنل ایس او ایس کی ماہر لوئیس ہوگن کے مطابق "ہم سائبر حملوں اور یورپ بھر میں پھیلنے والی ڈس انفارمیشن مہمات کے امکانات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ یہ خطرہ اب محض عسکری نہیں بلکہ تجارتی و شہری نظاموں تک پھیل چکا ہے۔”
انہوں نے اداروں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی رسد، مواصلاتی راستوں، اور سفری حکمت عملیوں کا ازسر نو جائزہ لیں اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے واضح منصوبہ بندی کریں۔
آنے والی جنگوں کا نقشہ؟
ماہرین کا ماننا ہے کہ آپریشن اسپائیڈر ویب مستقبل میں ہونے والی جنگوں کی ایک جھلک ہے، جن میں مصنوعی ذہانت، خودکار ہتھیار، اور روایتی محاذوں سے ہٹ کر حملے کلیدی حیثیت اختیار کریں گے۔
روس کی یوکرین پر فروری 2022 میں چڑھائی کے بعد سے اب تک ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں، مشرقی اور جنوبی یوکرین کے کئی علاقے تباہ ہو چکے ہیں، اور لاکھوں شہری بے گھر ہو چکے ہیں۔







