عالمی خبریں

روس کے سارے جھڈے خون سے رنگے ہوئے ہیں، انہیں کسی غیرجانبدار بینر تلے اولپمکس میں کھیلنے کی اجازت دینا ناانصافی ہوگی،یوکرینی صدر زیلنسکی

خلیج اردو

بدھ کے روز یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے 2024 کے سمر اولمپکس میں روسی ایتھلیٹس کے کسی بھی قسم کے غیر جانبدار بینر کے نیچے حصہ لینے کے خیال کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے تمام جھنڈے خون میں رنگے ہوئے ہیں۔

 

اولمپک کمیٹی کے صدر تھامس باخ سے بات کرنے کے بعد یوکرین کے صدر کا یہ بیان سامنے آیا ہے۔ مسٹر تھامس نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ 2024 کے پیرس گیمز میں روسی اور بیلاروسی کھلاڑیوں اور خواتین کی شرکت ابھی تک واضح نہیں ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

 

ایک بیان میں زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین کو اس بات سے مایوسی ہوئی ہے کہ اس نے او آئی سی کے روس اور بیلاروس کے کھلاڑیوں کو غیر جانبدار پرچم تلے مقابلہ کرنے کی اجازت دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ ہم صرف ایک بات کہہ سکتے ہیں روسی ایتھلیٹس کے لیے سفید یا کوئی غیر جانبدار جھنڈا ناممکن ہے، کیونکہ ان کے تمام جھنڈے خون میں رنگے ہوئے ہیں۔

 

زیلنسکی نے کھیلوں کے مقابلوں سے روسیوں کی مکمل تنہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ روس کے ساتھ تنازع میں 184 یوکرائنی ایتھلیٹ مارے گئے تھے لیکن انہوں نے تفصیلات نہیں بتائیں۔روسی اور بیلاروسی کھیلوں کی وزارتوں نے فوری طور پر تبصرہ کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

 

پیر کے روز ریاستہائے متحدہ کی اولمپک اور پیرا اولمپک کمیٹی نے روسی اور بیلاروسی ایتھلیٹس کے گیمز میں شرکت کے امکان کو تلاش کرنے کی توثیق کی لیکن کہا کہ انہیں غیر جانبدار حریف کے طور پر سختی سے ایسا کرنا ہے۔

 

باخ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ جب کہ روس اور بیلاروس کے خلاف آئی او سی کی پابندیاں برقرار ہیں، ایونٹ کی سالمیت کے تحفظ کے لیے اپنے کھلاڑیوں کو بین الاقوامی مقابلوں میں حصہ نہ لینے دینے کے "حفاظتی اقدامات” ایک اور معاملہ تھا۔

 

اپنے ویڈیو خطاب میں زیلنسکی نے کہا کہ آئی او سی کے اصول یقینی طور پر دہشت گرد ریاستوں کو شامل کرنے کا تصور نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ اگر روسی ایتھلیٹس کو مقابلہ کرنے کی اجازت دی گئی تو یہ ایک غلطی ہوگی کیونکہ اسے اس بات کی علامت کے طور پر تعبیر کیا جائے گا کہ "دنیا ان کی دہشت گردی سے تعزیت کرتی ہے۔

 

آئی او سی نے روس اور بیلاروس کی قومی اولمپک کمیٹیوں کو معطل یا منظور نہیں کیا ہے۔

 

Source: Khaleej Times

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button