
خلیج اردو
غزہ: اسرائیلی افواج کی بمباری میں شدت کے نتیجے میں غزہ میں مزید 43 فلسطینی شہید ہو گئے، جس سے علاقے میں انسانی بحران سنگین تر ہو گیا ہے۔ مختلف علاقوں پر مسلسل فضائی حملوں نے نہ صرف بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیا ہے بلکہ شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔
غزہ کی آبادی اس وقت شدید خوراک، پانی اور طبی سہولیات کی قلت سے دوچار ہے۔ اسپتالوں میں ادویات مکمل ختم ہو چکی ہیں جبکہ زخمیوں کے علاج کے لیے بنیادی سہولیات بھی دستیاب نہیں۔ بچوں کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں، جنہیں فوری طبی توجہ کی ضرورت ہے مگر موجودہ صورتحال میں علاج ممکن نہیں رہا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے موجودہ حالات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خوراک اور طبی امداد کی ترسیل میں رکاوٹ کو عالمی قوانین کے مطابق ایک "جنگی جرم” قرار دیا ہے۔ ادارے نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر انسانی بنیادوں پر امداد فراہم کرے تاکہ ہزاروں متاثرین کی زندگیاں بچائی جا سکیں۔







