عالمی خبریں

امریکی پارلیمنٹ پر حملے کا شرمناک عمل ، صدر ٹرمپ کو ہٹانے کا مطالبہ

خلیج اردو
08 جنوری 2021
واشنگٹن : امریکی پارلیمنٹ پر ٹرمپ کے حامیوں کا حملہ ہونے کے بعد صدر کے خلاف دوسری مرتبہ عدم اعتماد لانے اور انہیں ہٹانے کا مطالبہ زور پکڑتا جارہا ہے۔ صدر ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے امریکی کیپٹول پر چڑھائی سے دنیا بھر میں امریکہ کا سر شرم سے جھک گیا ہے۔

ڈیموکریٹس کی جانب سے صدر ٹرمپ کو 20 جنوری سے پہلے ہٹانے کا مطالبہ کیا جارہا ہے اگرچہ نئی انتظامیہ 20 جنوری کو حکومت سنبھالے گی اور ٹرمپ اپنی تقریر میں اقتدار کی منتقلی کا عہد کر چکے ہیں۔

بدھ کو ایک تقریر میں صدر ٹرمپ نے ان مظاہروں اور گھراؤ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ کجو قانون کو ہاتھ میں لے رہے ہیں اور پوری دنیا میں امریکی جمہوریت کا مزاق بنائے ہوئے ہیں ، ان سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا اور یہ لوگ ہم میں سے نہیں ہے ، میں امریکی عظمت کو مقدم رکھتے ہوئے ہمیشہ سے جمہوریت کا حامی رہا ہوں اور عوام سے پر امن رہنے کی اپیل کرتا ہوں ، میں واضح کرچکا ہوں کہ 20کو اقتدار ہموار طریقے سے منتقل کیا جائے گا۔

اس ویڈیو میں جہاں انہوں نے اقتدار کی ہموار منتقلی کا وعدہ کیا وہاں عدالتوں میں الیکشن کے نتائج کو چیلنج کرنے کا دفاع بھی کیا اور کہا کہ قانون میدان میں جنگ لڑی اور جاری رکھوں گا۔

 

صدر ٹرمپ کو ہٹانے کا مطالبہ شدت اختیار کر گیا، اسپیکر نینسی پلوسی نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کا عہدے پر رہنا امریکا کے لیے خطرناک ہے، ٹرمپ انتظامیہ اور کابینہ ارکان کے استعفوں کا سلسلہ بھی جاری ہے، وزیر تعلیم بھی مستعفی ہو گئے۔

امریکی اسپیکر نینسی پلوسی نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کا عہدے پر رہنا امریکا کیلئے نہ صرف شرمناک ہے بلکہ خطرناک بھی ہو گیا ہے۔ نائب صدر اورکابینہ کو چاہیے کہ 25 ویں آئینی ترمیم بحال کر دیں۔ دوسری جانب ڈیموکریٹس اراکین کانگریس نے ٹرمپ کو ہٹانے کیلئے مواخذے کی بھی تیاری کرلی۔ ٹرمپ انتظامیہ اور کابینہ ارکان کی جانب سے استعفے دیئے جارہے ہیں۔ امریکی وزیر تعلیم بٹسے ڈیوس مستعفی ہو گئیں۔ جس کے بعد کابینہ سے مستعفی ہونے والے وزرا کی تعداد دو ہو گئی۔ قبل ازیں وزیرِ ٹرانسپورٹیشن بھی مستعفی ہو چکی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button