
خلیج اردو
امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے افغانستان کو ناجائز حراست کی سرپرستی کرنے والی ریاست قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغان طالبان مراعات حاصل کرنے کے لیے دباؤ اور دہشت گردی جیسے حربے استعمال کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ طالبان کی جانب سے ڈالا جانے والا دباؤ موجودہ امریکی انتظامیہ پر اثر انداز نہیں ہوگا اور واشنگٹن اس معاملے پر سخت مؤقف برقرار رکھے گا۔
Today, I am designating Afghanistan as a State Sponsor of Wrongful Detention. The Taliban continue to use terrorist tactics to seek policy concessions, but it won’t work under this administration. The Taliban must release Dennis Coyle, Mahmood Habibi, and all Americans unjustly…
— Secretary Marco Rubio (@SecRubio) March 9, 2026
مارکو روبیو کے مطابق افغانستان میں موجود تمام امریکی قیدیوں کو فوری طور پر رہا کیا جانا چاہیے کیونکہ کسی بھی غیر ملکی شہری کو ناجائز طور پر قید رکھنا قابل قبول نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈینس کوئل اور محمود حبیبی کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے اور اس معاملے پر امریکہ کو شدید تشویش ہے۔ ان کے مطابق مختلف افراد کو اب رہا کرنا پڑے گا اور طالبان کو اس حوالے سے واضح پیغام دے دیا گیا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ واشنگٹن اپنے شہریوں کی حفاظت اور رہائی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن سفارتی اور سیاسی اقدام کرے گا۔
ماہرین کے مطابق امریکہ کی جانب سے افغانستان کو ناجائز حراست کی سرپرستی کرنے والی ریاست قرار دینا طالبان حکومت پر دباؤ بڑھانے کی ایک نئی سفارتی حکمت عملی کا حصہ ہو سکتا ہے۔







