پاکستانی خبریں

نعمان اعجاز نے خلیل الرحمٰن قمر کے سیٹ پر نہ آنے کی شرط رکھی، راشد خواجہ کا انکشاف

خلیج اردو
کراچی: معروف پروڈیوسر راشد خواجہ نے انکشاف کیا ہے کہ ماضی میں اداکار نعمان اعجاز نے خلیل الرحمٰن قمر کے شوٹنگ سیٹ پر نہ آنے کی شرط پر ان کے پروڈیوس کردہ ڈرامے میں کام کیا۔
راشد خواجہ، جو پاکستانی پروڈیوسرز ایسوسی ایشن کے بانی ارکان میں شامل ہیں، نے ایک ٹی وی شو میں گفتگو کے دوران بتایا کہ دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی کچھ اداکار اپنے اسکینڈلز خود بنواتے ہیں تاکہ میڈیا کی سرخیوں میں رہیں۔ ان کے مطابق کیمرے کے پیچھے کام کرنے والے لوگ عموماً عوام کی توجہ سے محروم رہتے ہیں۔

راشد خواجہ نے کہا کہ پاکستان میں فلموں پر بہت باتیں ہوتی ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہاں ایران، انڈونیشیا، مصر اور ملائیشیا جیسے ممالک کی کہانیوں پر مبنی فلمیں نہیں چل پاتیں، بلکہ صرف مصالحہ فلمیں کامیاب ہوتی ہیں۔ ان کے مطابق ہر شخص اپنی زبان میں فلم دیکھنا پسند کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اردو زبان کی فلمیں زیادہ کامیاب رہتی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ وہ تقریباً تمام پاکستانی فلمیں دیکھتے ہیں، ’دی لیجنڈ آف مولا جٹ‘ انہیں بہت پسند آئی، تاہم خلیل الرحمٰن قمر کی لکھی فلمیں جیسے ’لو گرو‘ اور ’لوڈ ویڈنگ‘ انہیں متاثر نہ کرسکیں۔

راشد خواجہ نے مزید بتایا کہ جب ان کی فلم ’سلاخیں‘ کو ایک اسٹائل ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا تو انہوں نے ایوارڈ لینے سے انکار کردیا کیونکہ منتظمین نے ان کے ہدایت کار کو “غیر اسٹائلش” قرار دیا تھا۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ ماضی میں ان کے ڈرامے ’میں مرگئی شوکت علی‘ کے لیے نعمان اعجاز نے شرط رکھی تھی کہ خلیل الرحمٰن قمر شوٹنگ سیٹ پر نہیں آئیں گے۔ خلیل الرحمٰن قمر نے خود نعمان اعجاز کو کاسٹ کرنے کی تجویز دی تھی لیکن بعد میں سیٹ پر نہ آنے پر رضامندی ظاہر کردی، یوں ڈرامے کی شوٹنگ مکمل ہو سکی۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button