عالمی خبریں

امریکا کا بحرالکاہل میں مبینہ منشیات بردار کشتی پر نیا حملہ، 4 افراد ہلاک

 

خلیج اردو

واشنگٹن: امریکی فوج نے بحرالکاہل کے مشرقی حصے میں ایک اور کشتی کو نشانہ بنایا ہے جسے منشیات اسمگلنگ میں ملوث قرار دیا گیا، حملے میں 4 افراد ہلاک ہوگئے۔ یہ بات امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بدھ کے روز اپنے بیان میں بتائی۔

ہیگستھ نے سماجی پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ حملہ بین الاقوامی پانیوں میں کیا گیا، جیسا کہ حالیہ ہفتوں میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی متنازع انسدادِ منشیات مہم کے تحت کیے گئے دیگر حملے بھی۔ ان حملوں میں اب تک مجموعی طور پر کم از کم 62 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

وزارت دفاع کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو میں ایک کشتی کو سمندر میں ساکت دکھایا گیا ہے، جس کے بعد زوردار دھماکہ اور آگ بھڑکتے ہوئے دیکھی جا سکتی ہے۔ تاہم ویڈیو کے کچھ حصے دھندلے کر دیے گئے ہیں، جس سے کشتی پر موجود افراد کی درست تعداد کی تصدیق ممکن نہیں۔

ہیگستھ نے کہا کہ “یہ کشتی، دیگر تمام کی طرح، ہماری انٹیلیجنس کے مطابق غیر قانونی منشیات اسمگلنگ میں ملوث تھی، جو ایک معروف اسمگلنگ روٹ پر منشیات لے جا رہی تھی۔”

تاہم اب تک امریکی حکومت نے ان حملوں کے نشانہ بننے والے جہازوں کے بارے میں کوئی ٹھوس ثبوت عام نہیں کیے کہ وہ واقعی منشیات اسمگلنگ میں ملوث تھے یا امریکا کے لیے کسی خطرے کا باعث بنے۔

یہ تازہ حملہ اس واقعے کے دو دن بعد ہوا ہے جب بحرالکاہل میں چار کشتیوں پر کیے گئے متعدد فضائی حملوں میں 14 افراد مارے گئے تھے جبکہ ایک شخص زندہ بچ گیا تھا۔

امریکا نے میکسیکو سے درخواست کی تھی کہ وہ زندہ بچ جانے والے شخص کی تلاش کرے، تاہم میکسیکن صدر کلاؤڈیا شین باؤم نے بدھ کو تصدیق کی کہ تلاش کی کوششیں ناکام ہو گئیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button