
خلیج اردو
کابل: شمالی افغانستان میں اتوار اور پیر کی درمیانی شب 6.3 شدت کا زلزلہ آیا جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ امریکی جیولوجیکل سروے (یو ایس جی ایس) کے مطابق زلزلے کا مرکز صوبہ بلخ کے ضلع خُلم میں، شہر مزار شریف کے قریب، 28 کلومیٹر گہرائی میں تھا۔
زلزلے کے جھٹکے دارالحکومت کابل سمیت کئی علاقوں میں محسوس کیے گئے۔ مزار شریف میں لوگ نصف شب کے وقت خوف کے مارے گھروں سے باہر نکل آئے کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ ان کے مکانات منہدم ہو سکتے ہیں۔
مقامی حکام نے ہنگامی فون نمبر جاری کر دیے ہیں، تاہم تاحال کسی ہلاکت یا زخمی ہونے کی سرکاری تصدیق نہیں کی گئی۔
طالبان انتظامیہ نے 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے کئی بڑے زلزلے برداشت کیے ہیں۔ گزشتہ برس مغربی صوبہ ہرات میں ایران کی سرحد کے قریب آنے والے زلزلے میں 1500 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے تھے جبکہ 63 ہزار سے زائد گھر تباہ ہوگئے تھے۔
اس سے قبل 31 اگست 2025 کو مشرقی افغانستان میں 6.0 شدت کے زلزلے نے 2200 سے زائد افراد کی جان لے لی تھی، جو حالیہ افغان تاریخ کا سب سے مہلک زلزلہ تھا۔
افغانستان زلزلوں کے لحاظ سے حساس خطے میں واقع ہے، جہاں ہندوکش پہاڑی سلسلے کے نیچے یوریشین اور بھارتی ٹیکٹونک پلیٹیں آپس میں ملتی ہیں۔
ملک پہلے ہی کئی بحرانوں سے دوچار ہے، جن میں طویل جنگوں کے اثرات، شدید خشک سالی، غربت اور ہمسایہ ممالک پاکستان و ایران سے جبری طور پر واپس آنے والے لاکھوں افغانوں کی آباد کاری شامل ہے۔
زلزلوں جیسے قدرتی آفات کے بعد امدادی کارروائیاں مشکل ہو جاتی ہیں کیونکہ زیادہ تر مکانات کمزور تعمیرات کے باعث آسانی سے منہدم ہو جاتے ہیں اور بنیادی ڈھانچے کی کمی بچاؤ کے عمل میں رکاوٹ بنتی ہے۔







