
خلیج اردو
ابوظہبی: محکمہ صحت ابوظہبی (DoH) نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ گھروں میں زائدالمیعاد یا غیر استعمال شدہ ادویات ذخیرہ کرنا صحت اور تحفظ کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
محکمے نے کہا کہ پرانی یا زائدالمیعاد ادویات اپنی تاثیر کھو دیتی ہیں اور بعض اوقات خطرناک بھی بن سکتی ہیں، جب کہ گھروں میں ان کا موجود رہنا بچوں یا بڑوں کی جانب سے غلطی سے نگل لینے یا غلط استعمال کا سبب بن سکتا ہے۔
محکمے کے مطابق ایسی ادویات کا جمع ہونا ایک ابھرتا ہوا عوامی صحت کا مسئلہ ہے، جو زہرخورانی، اوور ڈوز اور غیر مناسب استعمال جیسے واقعات کو جنم دے سکتا ہے۔
محکمہ صحت نے واضح کیا کہ ادویات کے غلط طریقے سے ٹھکانے لگانے، جیسے نالیوں یا ٹوائلٹ میں بہانے سے، ماحول کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے کیونکہ سیوریج سسٹم ان کیمیائی اجزاء کو فلٹر نہیں کر پاتا، جو زیرِ زمین پانی میں شامل ہو کر صحت و ماحول دونوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔
DoH نے محفوظ ادویات کی تلفی کو ایک سماجی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ مقررہ ہدایات پر عمل کریں۔ بعض اسپتال ایسے پروگرام چلاتے ہیں جن کے تحت شہری اپنی غیر استعمال شدہ یا زائدالمیعاد ادویات واپس جمع کرا سکتے ہیں۔
جہاں یہ سہولت دستیاب نہ ہو، وہاں شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ادویات کو اصل پیکنگ سے نکال کر کسی ناپسندیدہ مادے جیسے استعمال شدہ کافی کے ذروں کے ساتھ مکس کریں، پھر انہیں پلاسٹک بیگ یا بند کنٹینر میں ڈال کر کوڑے میں پھینکیں۔ مائع ادویات کو ضائع کرنے سے قبل انہیں کاغذی تولیوں سے جذب کر لینا چاہیے۔
محکمہ صحت نے مزید ہدایت کی کہ ادویات کے لیبل سے ذاتی معلومات مٹا دی جائیں اور دوسروں کے نسخے کی ادویات کسی کے ساتھ شیئر نہ کی جائیں، کیونکہ ایک مریض کے لیے تجویز کردہ دوا دوسرے کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔







