
خلیج اردو
ابوظہبی: متحدہ عرب امارات کے 30 اماراتی انجینئرز کی ٹیم نے عرب دنیا کے پہلے مشترکہ سیٹلائٹ منصوبے ‘813’ کی تیاری کی قیادت کرتے ہوئے خلائی تعاون کے نئے دور کی بنیاد رکھ دی۔ یہ سنگ میل خطے میں سائنسی و تکنیکی اشتراک کی ایک اہم علامت قرار دیا جا رہا ہے، جیسا کہ روزنامہ الاتحاد نے رپورٹ کیا۔
یہ منصوبہ امارات یونیورسٹی کے نیشنل اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سینٹر (NSSTC) کی میزبانی میں تیار کیا گیا، جو خلائی سائنس کے میدان میں امارات کی قیادت اور ملکی صلاحیتوں کی عالمی سطح پر پہچان کا مظہر ہے۔
‘813’ منصوبے کا آغاز 2020 میں عرب اسپیس کوآپریشن گروپ کے پہلے اجلاس کے دوران کیا گیا تھا۔ اس سیٹلائٹ کا مقصد ماحولیاتی اور موسمیاتی تبدیلیوں کی نگرانی، پائیدار ترقی کے اہداف میں مدد، اور عرب ممالک کے درمیان سائنسی تعاون کو فروغ دینا ہے۔
مرکز کے مطابق سیٹلائٹ کی تیاری، اسمبلی اور جانچ کے تمام مراحل امارات میں موجود جدید ترین سہولیات میں انجام دیے گئے۔ اس عمل کی نگرانی نوجوان اماراتی انجینئرز نے کی، جنہیں امریکہ اور یورپ میں خصوصی تربیت فراہم کی گئی تھی۔
‘813’ پہلا عرب سیٹلائٹ ہے جسے مکمل طور پر اماراتی سرزمین پر تیار کیا گیا اور جس میں قومی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا۔ اس منصوبے میں نو عرب ممالک کے خلائی ادارے شریک ہیں، جنہوں نے اپنی تکنیکی معاونت فراہم کی۔
یہ سیٹلائٹ جدید ملٹی اسپیکٹرل امیجنگ سسٹمز سے لیس ہے جو عرب خطے کے وسیع علاقوں کی ہائی ریزولوشن تصاویر فراہم کرے گا۔ ان ڈیٹا کے ذریعے ماحولیاتی تغیرات، زراعت، آبی وسائل، صحرائی پھیلاؤ اور ہوا کے معیار کی نگرانی میں مدد ملے گی۔
نیشنل اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سینٹر نے اسے امارات کی خلائی صنعت کے لیے ’’نیا موڑ‘‘ قرار دیا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک کا مقامی انسانی سرمایہ علاقائی سطح کے بڑے خلائی منصوبے کامیابی سے انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔







