سونے کے نرخ

دبئی میں سونا اس ہفتے مستحکم، سال کے اختتام سے قبل بڑی گراوٹ کا امکان نہیں

 

خلیج اردو

دبئی: متحدہ عرب امارات میں سونے کی قیمتیں اس ہفتے نسبتاً کم سطح پر مستحکم رہنے کی توقع ہے۔ 24 قیراط سونا 482 درہم فی گرام پر فروخت ہو رہا ہے، جو ہفتے کے وسط میں 475.25 درہم تک گرنے کے بعد معمولی بہتری کے ساتھ سنبھلا ہے، جبکہ 22 قیراط سونا 446.25 درہم فی گرام پر مستحکم ہے۔

بین الاقوامی مارکیٹ میں فی اونس سونا تقریباً 4 ہزار ڈالر (14,700 درہم) کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے۔ امریکی فیڈرل ریزرو کی دوسری شرحِ سود میں کمی کے باوجود محتاط پالیسی بیان نے ڈالر کو سہارا دیا ہے، جس سے سونے پر معمولی دباؤ دیکھا جا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ میں حکومت کے جزوی شٹ ڈاؤن، کمزور مینوفیکچرنگ ڈیٹا اور امریکہ-چین تجارتی کشیدگی میں نرمی کے بعد کمزور سیف ہیون طلب نے عالمی مارکیٹ کو محدود تجارتی دائرے میں رکھا ہوا ہے۔

چین میں نئے ٹیکس قوانین کے باعث کچھ بینکوں نے سونا بیچنے کے کھاتے عارضی طور پر بند کر دیے ہیں، جس سے دنیا کی سب سے بڑی مارکیٹ میں فزیکل ڈیمانڈ میں کمی آئی ہے۔

2025 میں سونا 50 فیصد سے زائد مہنگا ہو چکا ہے، پہلی بار 4 ہزار ڈالر فی اونس کی سطح عبور کرتے ہوئے، سال کے ابتدائی چھ ماہ میں 26 نئے ریکارڈ قائم کیے۔

ماہرین کے مطابق سونا فی الحال 3,886 سے 4,046 ڈالر کے درمیان ٹریڈ ہو رہا ہے۔ اگر یہ 4,046 ڈالر کی سطح عبور کر کے 4,110 ڈالر سے اوپر گیا تو دوبارہ تیزی ممکن ہے۔

گولڈمین ساکس، بینک آف امریکا اور یو بی ایس کے مطابق قیمتیں 2026 تک مضبوط رہیں گی، متوقع حد 4,000 سے 5,600 ڈالر فی اونس کے درمیان رہے گی۔

مرکزی بینک گزشتہ تین برسوں سے سالانہ ایک ہزار ٹن سے زائد سونا خرید رہے ہیں، جن میں چین، بھارت، ترکی اور پولینڈ نمایاں ہیں، تاکہ اپنے زرمبادلہ کے ذخائر کو امریکی ڈالر کے اثرات سے بچایا جا سکے۔

یو اے ای میں ماہرین کے مطابق 24 قیراط سونا 500 درہم فی گرام سے نیچے ہی رہے گا، تاہم کسی بڑی گراوٹ کا امکان نہیں۔ قلیل مدتی کمی کی صورت میں یہ خریداروں کے لیے اچھا موقع ہو گا، خاص طور پر زیورات یا سکے خریدنے والوں کے لیے۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button