
خلیج اردو
اسلام آباد: پارلیمنٹ نے قومی کمیشن برائے اقلیتی حقوق بل کثرتِ رائے سے منظور کر لیا۔ بل کی منظوری کے دوران اپوزیشن نے احتجاج کیا اور متعدد ارکان اسپیکر ڈائس کے سامنے کھڑے ہوگئے۔ بل میں جے یو آئی کی ترامیم شامل کی گئیں، اس کے باوجود جے یو آئی نے بل کی مخالفت کی۔ تحریکِ پیشکاری کے حق میں 160 جبکہ مخالفت میں 79 ووٹ ڈالے گئے۔
وزیرِ قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ’’میرے آقا کا حکم ہے کہ اقلیتوں کو حقوق دو‘‘۔ انہوں نے کہا کہ سیاست برائے سیاست سے گریز کیا جائے، اقلیت کی آئینی تعریف کے مطابق غیر مسلم، عیسائی، ہندو اور پارسی سب برابر کے پاکستانی ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ سپریم کورٹ نے 2014 میں اقلیتی کمیشن کی تشکیل کا حکم دیا تھا، اس لیے اس قانون پر سیاست نہ کی جائے۔
وزیرِ قانون نے کہا کہ کمیشن کے قیام کا مقصد ملک کی اقلیتی برادری کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانا ہے، کوئی ایسا کام نہیں ہوگا جو فتنہ قادیانیت کو ہوا دے۔ انہوں نے ایوان کو یقین دہانی کرائی کہ ’’قیدی نمبر 804 کو کچھ نہیں ہوگا‘‘۔






