
خلیج اردو
ابوظہبی میں اسکولوں میں صحت مند خوراک سے متعلق نئے ضوابط پر مارچ کے اختتام تک مکمل عملدرآمد کی تیاری جاری ہے جبکہ متعدد تعلیمی اداروں کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ کئی برسوں سے طلبہ اور والدین کو سخت غذائی اصولوں کے لیے تیار کر رہے ہیں
ابوظہبی محکمہ تعلیم و علم کی جانب سے جاری کردہ نئے قوانین کے تحت اسکولوں میں پراسیس شدہ غذائیں میٹھے مشروبات اور زیادہ چکنائی والی اشیا پر پابندی عائد کر دی گئی ہے جس میں گھر سے لایا جانے والا کھانا بھی شامل ہے تاکہ طلبہ میں صحت مند عادات کو فروغ دیا جا سکے
البشائر پرائیویٹ اسکول کی ماحولیاتی صحت و تحفظ افسر ہیبا ابو یقین کے مطابق اسکول میں کئی برس قبل تلی ہوئی اور زیادہ چکنائی والی غذاؤں پر پابندی عائد کر دی گئی تھی جبکہ کووڈ انیس کے بعد لائسنس یافتہ صحت مند کیٹرنگ کا نظام متعارف کروایا گیا
انہوں نے کہا کہ ابتدا میں والدین کی جانب سے مزاحمت سامنے آئی تاہم اب تقریبات کے دوران چاکلیٹس کے بجائے کھجوریں اور جئی سے بنی اشیا بھیجی جا رہی ہیں
لیوا انٹرنیشنل اسکول فلج ہزہ کے مطابق دو ہزار تئیس سے صحت مند غذائی نظام نافذ کیا جا چکا ہے جس کے تحت تمام کھانوں پر کیلوریز اجزا چینی کی مقدار اور میعاد ختم ہونے کی تاریخ درج کی جاتی ہے
اسکول انتظامیہ کے مطابق اگر طلبہ کے لنچ باکس میں مٹھائیاں چپس یا سافٹ ڈرنکس پائی جائیں تو انہیں ضبط کر کے والدین کو واپس کر دیا جاتا ہے جبکہ طلبہ کو متبادل صحت مند کھانا فراہم کیا جاتا ہے تاکہ انہیں بھوکا نہ رہنا پڑے
دوسری جانب روزری اسکول میں پندرہ برس سے زائد عرصے سے صحت مند خوراک کے فروغ کے لیے آگاہی مہم جاری ہے جس کے تحت بروشرز کلاس سیشنز اور مختلف سرگرمیوں کے ذریعے طلبہ میں مثبت غذائی عادات پیدا کی جا رہی ہیں
اسکولوں کا کہنا ہے کہ مارچ کی ڈیڈ لائن سے قبل تمام نظام نافذ کیے جا چکے ہیں اور اب اصل توجہ والدین کے ساتھ مستقل آگاہی اور تعاون کو برقرار رکھنے پر مرکوز ہے۔






