
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں رمضان المبارک کے آغاز کے ساتھ ہی افطار اور سحری کی محافل کا سلسلہ جاری ہے تاہم بہت سے افراد کے ذہن میں یہ سوال موجود ہے کہ کیا طلوع فجر سے غروب آفتاب تک روزہ رکھنے کے دوران وزن کم کرنا ممکن ہے
ماہرین کے مطابق اگر روزہ رکھنے والا صحت مند اور درست غذائی انتخاب کرے تو رمضان کے دوران وزن کم کرنا ممکن ہے
اسٹر ہسپتال منخول کی ماہر معالج ڈاکٹر جیوتی اپادھیائے کے مطابق طبی لحاظ سے رمضان ایک منظم وقت کے مطابق کھانے کے نظام سے مشابہت رکھتا ہے اور درست طریقے سے اختیار کیا جائے تو یہ صحت کے لیے مفید ثابت ہو سکتا ہے
ان کا کہنا ہے کہ طویل دورانیے کے روزے انسولین کی سطح کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں جس سے جسم ذخیرہ شدہ شکر اور چربی کو زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کرتا ہے جبکہ نظام ہضم کو آرام ملنے سے معدے کی کارکردگی بہتر ہو سکتی ہے
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر روزے کے بعد زیادہ کیلوریز چینی سے بھرپور غذائیں بہت زیادہ بھاری کھانے اور نیند کی کمی کو معمول بنا لیا جائے تو رمضان کے طبی فوائد ضائع ہو سکتے ہیں
ماہرین کے مطابق افطار کے وقت جوس میٹھے اور تلی ہوئی اشیا کے زیادہ استعمال کے باعث روزہ رکھنے کے باوجود وزن میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے جبکہ پانی کی کمی اور بے ترتیب نیند تھکن اور سر درد کا سبب بنتی ہے
فٹنس ٹرینر ریم بیکر کے مطابق رمضان ایک قدرتی معمول فراہم کرتا ہے جس سے صحت مند عادات اپنائی جا سکتی ہیں روزانہ ہلکی ورزش افطار کے بعد چہل قدمی یا معمولی اسٹریچنگ بھی نمایاں فرق پیدا کر سکتی ہے
ماہرین کا کہنا ہے کہ رمضان نہ صرف روحانی تربیت بلکہ طرز زندگی میں مثبت تبدیلی اور وزن میں کمی کا بھی بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔







