
خلیج اردو
امریکا کی سپریم کورٹ آف دی یونائیٹڈ اسٹیٹس نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عالمی سطح پر عائد کیے گئے تجارتی ٹیرف اقدامات کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔
عدالت نے 6 کے مقابلے میں 3 ججوں کی اکثریت سے فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ یکطرفہ طور پر اتنے وسیع پیمانے پر ٹیرف نافذ کرنا وفاقی قانون کی خلاف ورزی تھا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ صدر کو اس نوعیت کے وسیع اختیارات استعمال کرنے کے لیے کانگریس کی واضح منظوری درکار تھی، جبکہ "لامحدود مقدار، مدت اور دائرہ کار” کے ٹیرف عائد کرنے کا دعویٰ ایک غیر معمولی اختیار ہے جس کے لیے مضبوط قانونی بنیاد ضروری ہے۔
عدالت نے مزید کہا کہ جس ہنگامی قانون کا سہارا لے کر یہ ٹیرف نافذ کیے گئے وہ اس سطح کی طاقت کے استعمال کے لیے ناکافی تھا۔
ٹرمپ انتظامیہ نے پاکستان سمیت متعدد ممالک پر اضافی محصولات عائد کیے تھے جبکہ گزشتہ ماہ ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان دیا تھا کہ اگر عدالت نے ان کے خلاف فیصلہ دیا تو امریکا کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے رواں سال کیے گئے تجارتی معاہدوں پر اثر پڑ سکتا ہے جبکہ اربوں ڈالر کے ممکنہ ریفنڈ کلیمز بھی سامنے آ سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ صدارتی ہنگامی اختیارات کی نئی حد متعین کرتا ہے اور مستقبل میں کسی بھی امریکی صدر کے لیے کانگریس کی منظوری کے بغیر وسیع معاشی اقدامات کرنا آسان نہیں ہوگا۔






