
خلیج اردو
مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے 32ویں روز کشیدگی مزید بڑھ گئی، جہاں Donald Trump نے ایران کے توانائی منصوبوں اور تیل کے ذخائر کو نشانہ بنانے کی دھمکی دے دی۔
امریکی صدر نے کہا کہ اگر جنگ کے خاتمے کا معاہدہ نہ ہوا اور آبنائے ہرمز بند رہی تو امریکہ ایران کے بجلی گھروں اور آئل فیلڈز کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
دوسری جانب Benjamin Netanyahu نے واضح کیا کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی ٹائم لائن نہیں دیں گے، اور کارروائیاں جاری رہیں گی۔
اہم پیش رفت میں دبئی بندرگاہ کے قریب کویتی آئل ٹینکر “ال سالمی” پر ایرانی ڈرون حملہ کیا گیا، جس سے جہاز کو نقصان پہنچا اور آگ بھڑک اٹھی، تاہم حکام نے فوری کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پا لیا اور تمام عملہ محفوظ رہا۔
متحدہ عرب امارات میں فضائی دفاعی کارروائیوں کے دوران گرنے والے ملبے سے دبئی کے علاقے البداء میں ایک مکان میں آگ لگ گئی، جس کے نتیجے میں چار افراد معمولی زخمی ہوئے۔
ادھر شارجہ میں بھی ایک ڈرون حملے کے واقعے پر حکام متحرک ہوئے، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
خطے میں حملوں کا سلسلہ جاری ہے، یروشلم میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جبکہ لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں میں مزید ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں۔
عالمی سطح پر بھی اثرات نمایاں ہیں، ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں کمی جبکہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا، جس سے عالمی معیشت پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔
تجزیہ: جنگ اب ایک خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں خلیجی خطہ بھی براہ راست اثرات کی زد میں آ رہا ہے، جس سے عالمی توانائی اور سیکیورٹی خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔






