پاکستانی خبریں

پاکستانی فنکارہ نے فلم ’دی اوڈیسی‘ میں ہیلن آف ٹرائے کے کردار کو منفرد انداز کیسے دیا

خلیج اردو
کیا دنیا کی سب سے خوبصورت عورت اندر سے سب سے زیادہ ٹوٹی ہوئی بھی ہو سکتی ہے؟ یہی سوال کرسٹوفر نولان کی فلم ’دی اوڈیسی‘ میں ہیلن آف ٹرائے کے کردار کے گرد گھومتا ہے۔

اگرچہ فلم میں ہومر کی مشہور رزمیہ داستان میں کچھ تبدیلیاں کی گئی ہیں، لیکن کہانی خوبصورتی، ذمہ داری اور جنگ کے بوجھ جیسے گہرے موضوعات کو اجاگر کرتی ہے۔ ہیلن وہ کردار ہے جسے تاریخ میں اس عورت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جس کی خوبصورتی نے ہزاروں بحری جہازوں کو جنگ کی طرف روانہ کیا، مگر نولان کے تصور میں وہ ایک ایسی ملکہ ہے جو اپنے نام پر شروع ہونے والی تباہ کن جنگ کا بوجھ اٹھا رہی ہے۔

فلم کی کاسٹیوم ڈیزائنر ایلن میروجنک ہیلن کے لیے ایک ایسے انداز کی خواہاں تھیں جو ’’ٹوٹے ہوئے مجسمے‘‘ کا احساس دے۔ اسی مقصد کے لیے پاکستانی فنکارہ اور ڈیزائنر میشا جاپان والا نے دو منفرد مجسمہ نما زیورات تیار کیے۔

ان میں ایک غیر متناسب گردن اور کندھے کا پلیٹ نما ڈیزائن جبکہ دوسرا کانسی کا چوکر شامل تھا، جنہوں نے ہیلن کے اندرونی ٹوٹ پھوٹ کے احساس کو ظاہر کیا۔

میشا جاپان والا نے بتایا کہ انہیں یہ موقع اداکارہ لوپیتا نیونگو کی وجہ سے ملا، جنہوں نے کاسٹیوم ڈیزائنر ایلن میروجنک کے ساتھ ابتدائی ملاقاتوں میں ان کے کام کا ذکر کیا تھا۔ لوپیتا فلم میں ہیلن اور کلیٹمنسترا دونوں کردار ادا کر رہی ہیں۔

میشا کے مطابق ایلن میروجنک نے ان سے ایسا ڈیزائن بنانے کو کہا جو حقیقت پسندانہ، بناوٹ سے بھرپور اور ٹوٹے ہوئے مجسمے جیسا محسوس ہو۔

انہوں نے بتایا کہ یہ کام ان کے لیے ایک چیلنج تھا کیونکہ اس سے پہلے انہوں نے جسم کے گرد پہننے والا ایسا مجسمہ نما ڈیزائن نہیں بنایا تھا۔ ابتدائی خاکوں اور کپڑے کے نمونوں کے تبادلے کے بعد حتمی ڈیزائن تیار کیا گیا اور انہوں نے اپنے اسٹوڈیو میں کئی ہفتے اس پر کام کیا۔

گردن اور کندھے کے پلیٹ ڈیزائن کی کامیابی کے بعد انہیں ہیلن کے ایک اور لباس کے لیے کانسی کا چوکر تیار کرنے کی ذمہ داری بھی دی گئی۔

میشا جاپان والا کے مطابق ان دونوں فن پاروں کو اداکارہ لوپیتا نیونگو کے جسم کے مطابق ڈھالا گیا اور ان پر تانبے اور پیتل کی تہہ دار فنشنگ کی گئی تاکہ جلد کی بناوٹ اور جسم کی تفصیلات نمایاں رہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان ڈیزائنز کے کناروں کو جان بوجھ کر ٹوٹا ہوا رکھا گیا تاکہ بکھرے ہوئے مجسمے کا تصور نمایاں ہو سکے۔

میشا جاپان والا کا فن عام طور پر جسم، شناخت، شرمندگی کے خاتمے اور حقیقت پسندی کے موضوعات کا جائزہ لیتا ہے۔ ان کے مطابق ’دی اوڈیسی‘ کے لیے تیار کیے گئے فن پارے بھی اسی سوچ کے تحت بنائے گئے، جہاں جسم کی ہر تفصیل اور ساخت کو نمایاں رکھا گیا۔

کراچی سے تعلق رکھنے والی میشا جاپان والا 19 سال کی عمر میں نیویارک منتقل ہوئیں جہاں انہوں نے معروف فیشن اسکول پارسنز میں تعلیم حاصل کی۔ بعد میں انہوں نے فیشن، آرٹ اور جسمانی ساخت کو ملاتے ہوئے منفرد مجسمہ سازی کے انداز کو اپنایا۔

اگرچہ میشا فلم کے سیٹ پر موجود نہیں تھیں، لیکن ان کا کہنا ہے کہ اتنے بڑے عالمی منصوبے کا حصہ بننا ان کے فنی سفر کی سب سے بڑی کامیابیوں میں سے ایک ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button