
خلیج اردو
سابق پاکستانی سفارتکار جاوید حفیظ کے مطابق خلیج اور اس کے گرد سکیورٹی صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور پاکستان ان نئی علاقائی سکیورٹی کوششوں میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
کویت نے پاکستان کے ساتھ جون 2023 میں طے پانے والے دفاعی تعاون کے معاہدے کی توثیق کر دی ہے جبکہ ریاض میں 14 ممالک نے میری ٹائم ڈیفنس الائنس قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس اتحاد کا مقصد خلیج عدن اور بحیرہ احمر میں تجارتی اور تیل بردار بحری جہازوں کی حفاظت یقینی بنانا ہے۔
جاوید حفیظ کے مطابق یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے بحری ناکہ بندی کی دھمکی نے خطے میں سمندری سکیورٹی کو مزید اہم بنا دیا ہے۔ پاکستان بھی اس نئے اتحاد میں شامل ممالک میں موجود ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں خلیجی ممالک کی سکیورٹی بڑی حد تک غیر ملکی فوجی اڈوں پر منحصر رہی تاہم حالیہ کشیدگی نے علاقائی ممالک کو اپنی دفاعی صلاحیت اور باہمی تعاون پر زیادہ توجہ دینے پر مجبور کیا ہے۔
ایرانی حملوں کے باعث کویت کے ہوائی اڈے، پانی صاف کرنے والے پلانٹ اور بجلی کے پیداواری یونٹس کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ اس صورتحال نے خلیجی ممالک میں مقامی اور علاقائی دفاعی تعاون کی ضرورت کو مزید اجاگر کیا ہے۔
جاوید حفیظ کے مطابق پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون طویل عرصے سے جاری ہے۔ پاکستانی اور خلیجی افواج مشترکہ تربیت اور مشقوں میں حصہ لیتی رہی ہیں جبکہ پاکستان کی بحریہ کو بحرین میں قائم کمبائنڈ میری ٹائم فورسز کے ساتھ کام کرنے کا بھی طویل تجربہ حاصل ہے۔
ان کے مطابق پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعلقات بھی انتہائی اہم ہیں۔ گزشتہ سال طے پانے والے باہمی دفاعی معاہدے کے تحت ایک ملک پر حملے کو دونوں کے خلاف حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
سابق سفارتکار کا کہنا ہے کہ امریکا کے ساتھ خلیجی ممالک کے سکیورٹی انتظامات فوری طور پر تبدیل ہونے کا امکان نہیں تاہم پاکستان، ترکیہ اور مصر سمیت علاقائی ممالک کے ساتھ خلیجی تعاون میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
جاوید حفیظ کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب کا تعاون ایک مضبوط علاقائی سکیورٹی نظام کا اہم ستون ہے اور دونوں ممالک کے سکیورٹی مفادات میں خاصی مماثلت پائی جاتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کو خلیجی ممالک کے سکیورٹی خدشات کے حوالے سے فوری ردعمل کے ساتھ ساتھ باقاعدہ مشاورت کا سلسلہ بھی جاری رکھنا چاہیے۔







