پاکستانی خبریں

سڑک پر گھومنے والے پانچ شیروں نے کراچی کے رہائشیوں میں خوف و ہراس پھیلا دیا

گیارہ اگست کو کراچی کے گلشن حدید کے علاقے کے رہائشیوں میں اس وقت خوف و ہراس پھیل گیا جب علاقے میں پانچ شیر سڑک پر گھومتے نظر ائے

خلیج اردو – پاکستانی نیوز رپورٹس کے مطابق ، گلشنِ معظم کی نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے فارم ہاؤس میں چھ شیروں کو رکھا گیا تھا ، جب ان میں سے پانچ فرار ہوگئے اور ابتدائی طور پر اس علاقے کی حفاظت کرنے والے کتوں پر حملہ کیا۔

جس کے بعد وہ قریبی ایک عمارت میں گھس گئے جس  کو نکالنے کے لیے لوگوں   نے  مقامی پولیس اور وائلڈ لائف سے رابطہ کیا

صوبائی وائلڈ لائف کنزرویٹر جاوید احمد مہر فرار شیروں کو پکڑنے کی کوششوں کی نگرانی کے لئے علاقے میں  پہنچ گئے۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطا بق انہوں نے بتایا کہ  "شیروں کے فرار ہونے کی اطلاع موصول ہونے کے بعد ہم نے اپنے ماہرین کو جلد ہی علاقے میں بھیج دیا ہے۔”

انہوں نے فارم ہاؤس میں شیروں کی موجودگی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسا کوئی قانون نہیں ہے جس سے لوگوں کو جنگلی جانوروں کو ان کی رہائش گاہ پر رکھنے کی اجازت ہو۔

پاکستانی میڈیا رپورٹس کے مطابق بڑی بلیوں کو بعد میں اسی دن وائلڈ لائف کے ماہرین نے ایک گھنٹہ طویل آپریشن کے بعد پکڑ لیا۔

محکمہ جنگلی حیات سندھ کے چیف کنزرویٹر جاوید مہر نے قانون میں حاصل سول جج کے اختیارات استعمال کرتے ہوئے اس مقدمے کی سماعت کی اور جمعرات کو اس کیس میں ملزم ذوہیب کی موجودگی میں فیصلہ پڑھ کر سنایا۔

 

جاوید مہر کا کہنا تھا کہ زوہیب کے پاس شیر رکھنے کا اجازت نامہ موجود نہیں تھا، اور انھوں نے ’منِی زو‘ کا جو لائسنس پیش کیا اس کی معیاد بھی پوری ہو چکی تھی۔

ان کے مطابق قانون کے تحت شیر اور چیتے انسانی آبادی میں نہیں رکھے جا سکتے اور اس حوالے سے نیشنل کونسل فار کنزرویشن آف وائلڈ لائف کی واضح ہدایات موجود ہیں، لہٰذا یہ شیر اور چیتے حکومتی تحویل میں لے کر کراچی زولوجیکل گارڈن میں بطور امانت منتقل کیے جائیں گے

زوہیب کو مشروط اجازت دی گئی ہے کہ وہ ڈیڑھ ماہ کے اندر ان شیروں اور چیتوں کو فروخت کر سکتے ہیں اور پاکستان کا کوئی بھی سرکاری یا نجی چڑیا گھر، ٹرسٹ یا غیر سرکاری تنظیم انھیں خرید سکتے ہیں، تاہم سرکاری چڑیا گھر کے علاوہ کسی کو بھی ان کی افزائش نسل کی اجازت نہیں ہو گی۔

 

فیصلے کے مطابق اگر مقررہ وقت کے اندر زوہیب ان شیروں کو شرائط کے مطابق فروخت نہ کر سکے تو پھر انھیں بحق سرکار ضبط سمجھا جائے گا۔

 

عدالتی فیصلے کے مطابق ملزم ایک حلف نامہ بھی جمع کروائیں گے جس میں وہ مستقبل میں اس غیر قانونی کاروبار میں ملوث نہ ہونے کی یقین دہائی کروائیں گے اور اس حوالے سے علاقے کے کسی معزز شخصیت کی ضمانت حاصل کی جائے گی۔

 

حکم کے تحت ذوہیب علاقے میں خوف پھیلانے پر مقامی لوگوں سے معذرت بھی کرنے کے پابند ہوں گے۔

 

ذوہیب نے فیصلہ سننے کے بعد کہا کہ وہ ان جانوروں کو شہر کے ایک نجی چڑیا گھر میں منتقل کرنا چاہتے ہیں جہاں مطلوبہ سہولیات دستیاب ہیں تاہم عدالت نے واضح کیا کہ یہ صرف سرکاری چڑیا گھر میں ہی منتقل ہو سکتے ہیں۔

 

محکمہ جنگلی حیات سندھ کے چیف کنزیرویٹر جاوید مہر نے زوہیب پر واضح کیا کہ ان شیروں اور ٹائیگرز کے ڈی این اے نمونے لیے جائیں گے اور اگر فیصلے کے برعکس خریدار نے ان کی افزائش نسل کی تو ملزم کو 20 لاکھ روپے جرمانے کے علاوہ قید کی سزا بھی سنائی جا سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button