پاکستانی خبریں

آپ کو شرم آنی چاہیئے

قومی اسمبلی اجلاس میں سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی جانب سے  عدم برداشت کا مظاہرہ

اسلام آباد: ( خلیج اردو)  مشیر کو قومی اسمبلی میں بولنے کی اجازت دینے پر اسپیکر قومی اسمبلی سے الجھ گئے ، بولے ایک غیر منتخب شخص کو فلور دینے پر آپ کو شرم آںی چاہیئے ، اسپیکر نے رولز یاد دلا دیئے۔ ٹریژری بینچیز کی جانب سے شاہد خاقان عباسی کی تقریر کے دوران چور چور کے نعرے ، جواب میں شاہد خاقان بولے کہ چور تمہارا باپ ہو گا۔

قومی اسمبلی کا اجلاس اس وقت ہنگامہ کی صورت حال اختیار کر گیا جب اسپیکر قومی اسمبلی نے اسد قیصر کمپنیز ایکٹ میں ترمیمی بل پر مشیر احتساب شہزاد اکبر کو فلور دی ، شہزاد اکبر نے ایف اے ٹی ایف کے کہنے پر ترامیم کا حوالہ دے کر اپوزیشن پر خوب تنقید کی۔

مشیر احتساب شہزاد اکبر نے کہا کہ اینٹی منی لانڈرنگ کی سب کلاز جے میں منی لانڈرنگ تحقیق کرنے والے ادارے بتائے گئے ہیں، ایف آئی اے۔ ایف بی آر ، سی ٹی ڈی مختلف حوالوں سے تحقیقات کرسکے گا، عوامی عہدہ رکھنے والوں کے حوالے سے منی لانڈرنگ ہوگی تو نیب تحقیق کرے گی، یہ قومی نہیں ذاتی تحفظ کررہے ہیں جو ایسی ترامیم کرانا چاہ رہے ہیں وہ مستفید ہونے والے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ مشتاق چینی منظور ٹی ٹی والا ہے جو کراچی نہیں گیا اس کے اکاونٹ سے اربوں نکلے۔ دوسرا کیس فیک اکاونٹ کا ہے جس میں کروڑوں اربوں کے ہیسے چند ہزار لینے والے کے اکاونٹس سے نکلے اور کہا گیا ثابت کرکے دکھاؤ، کہا گیا نیب میں صلاحیت نہیں تو شور کیوں ہے کسی بھی قانون پر بات کرنے کو تیار ہیں مگر کسی کی ذات کے لئے قانون سازی نہیں کریں گے۔

جواب دینے کیلئے مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کھڑے ہوئے ۔ انہوں نےغیر منتخب شخص کے ایوان میں آنےاور تقریر کرنے کا شکواہ کیا اور ساتھ ہی برہم ہو گئے ، اسپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی بولے کہ آپ کو شرم آنی چاہیئے کہ عوام کے نمائندے بیٹھے ہیں اور آپ نے غیر منتخب شخص کو فلور دے کر ایوان کی توہین کی ۔

اس پر سپیکر اسد قیصر نے کہا کہ رولز اجازت دیتے ہیں مشیر آسکتا ہے، ایک حکومتی رکن نے بلند آواز میں کہا کہ اپوزیشن لیڈر چور ہے، اس پر شاہد خاقان عباسی بولے کہ چور تیرا باپ ہوگا ۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ان کی تقریر کے بعد اسپیکر سے استدعا کی کہ سابق وزیراعظم کو آپ نے موقع دیا ہے وہ سینئر ممبر ہیں ، ان کے الفاظ حذف کریں مجھے توقع ہے وہ اپنے الفاظ واپس لے لیں گے جس پر شاہد خاقان عباسی بولے کہ اپنے الفاظ واپس لے لونگا مگر وزیر وعدہ کریں وہ سچ بولیں ۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سچ کی بات کریں گے تو بہت سی باتیں کھل جائیں گی ۔۔ بہتر ہے کچھ چیزوں پر پردہ رہنے دیں لیکن شاہد خاقان عباسی نے پھر کہا کہ وزیر صاحب بہتر ہے آپ سچ بولیں۔

اسمبلی اجلاس سے اظہار خیال میں وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا کہ پارلیمانی نگرانی اگر دے دیں گے تو اختیارات کی اداروں کی تقسیم نہیں رہے گی، یہ ہم نے نہیں پی پی پی دور میں ترامیم ڈالی تھیں، نیب کا بار ثبوت الگ ہے عاملہ کا الگ ہے، یہ قانون بنیادی انسانی حقوق کے خلاف نہیں، اسلام کے خلاف یہ قانون سازی نہیں ہے،  عاملہ اور نیب کا بار ثبوت اس بل میں بھی الگ الگ ہے۔

مسلم لیگ ن کے خواجہ آصف نے کہا کہ اکثر اوقات قانون سازی پر اتفاق رائے ہوتا رہا، یہ اچھا پارلیمانی تجربہ ہے کہ ایک بل سامنے آتا ہے جس پر سب مشاورت کرلیتے ہیں، ایف اے ٹی ایف قومی سلامتی کا معاملہ ہے، کل شہزاد اکبر نے سیکیورٹی اداروں کو محکمہ زراعت کہہ دیا، یہ درست ہے سیکیورٹی اداروں کی اچھی ان پٹ ایف اے ٹی ایف قوانین پر تھی، ہم پر یہ الزام غلط ہے کہ ہم نیب قانون کو استعمال کررہے ہیں، ہم نیب کو تالا نہیں لگانا چاہتے، نیب قانون کو متوازن کرنا چاہتے ہیں، اللہ کے نیچے کھڑے ہوکر کہہ رہے ہیں ہم نیب قانون کو منسلک نہیں کررہے، سپیکر صاحب آپ بتائیں کیا نیب قانون متوازن ہے، ہم نے نیب بھگت لیا اور بھی بھگت لیں گے، اتنی سنجیدگی دکھائیں کہ سیکیورٹی اداروں کا نام نہ لینا پڑے، ہمارے لئے نہیں ملک کی معیشت کے لئے نیب قانون میں ترامیم کریں، بتائیں نیب پچھلے دوسال میں کس کے خلاف استعمال ہوا ہے۔

قومی اسمبلی نے شراکت داری محدود ذمہ داری ترمیمی بل 2020ء، کمپنیات ترمیمی بل 2020ء ، اسلام آباد دارالحکومت علاقہ جات وقف املاک بل 2020ء بل کثرت رائے سے منظور کرلیا۔

 

اسمبلی میں توجہ دلاو نوٹس کے جواب میں وزیر تعلیم نے بتایا کہ سات ستمبر کو فیصلہ کریں گے کہ پندرہ ستمبر سے تعلیمی ادارے کھولنے ہیں یا نہیں، چھوٹے سکولز کے لئے وزیر اعظم کی طرف سے تعلیمی اداروں کے لئے پیکیج لانے کا سوچ رہے ہیں، کرونا کی وجہ سے تعلیم سمیت تمام شعبوں کا بڑا نقصان ہوا ہے، سپیکر اسد قیصر نے قومی اسمبلی اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کردیا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button