خلیج اردو
26 ستمبر 2020
بیروت: لبنان کے نامزد وزیر اعظم مصطفی ادیب نے نئی کابینہ کی تشکیل میں مشکلات اور تعطل کے بعد حکومت بنانے سے معذرت کر لی۔
ستمبر کے آغاز میں نامزد ہونے والے ادیب نے اتحادی جماعتوں کی جانب سے کابینہ کی تشکیل میں تاخیر اور حکومت سازی میں تعطل کے باعث یہ فیصلہ کیا ہے۔
اگست میں بیروت پورٹ پر دھماکوں کے بعد لبنان کے وزیر اعظم اور پوری کابینہ نے استعفی دیا تھا جس کے بعد نئی حکومت کیلیے تگ و دو کی جارہی تھی۔
مصطفی ادیب برلن میں سفیر تھے جس کو فرانس کے صدر ایمونیل میکرون کی ہمایت حاصل تھی۔وہ عقیدے سے سنی ہے اور انہیں شعیہ جماعتوں کی جانب سے دباؤ کا سامنا تھا اور ان سے وزارت خزانہ کا عہدہ طلب کیا گیا تھا۔
فرانس کی ہمایت سے لبنان بڑی سطح پر معاشی اصلاحات اور کرپشن مخالف اقدامات کیلیے کوشاں ہے۔ جس حوالے سے ادیب نے استعفی دیتے ہوئے کہا کہ لبنان کو فرانس کی نیک نیتی پر مبنی پلان پر عمل درآمد جاری رکھنی چاہیے۔
صدر مائیکل اوون کو استعفی پیش کرتے ہوئے انہوں نے آنے والے وزیراعظم کیلیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔







