معلوماتسٹوری

"کراس روڈز ٹو اسلام ، قمر نقیب خان

خلیج اردو
28 نومبر 2020
تحریر: قمر نقیب خان
"کراس روڈز ٹو اسلام” یہوداہ ڈی نوح اور جوڈتھ کورن کی تصنیف ہے، یہ عجیب و غریب کتاب میں نے دس سال پہلے پڑھی تھی. رشید یوسفزئی صاحب نے دو چار دن پہلے اس کی کچھ تصاویر بھیجیں تو پوری کتاب ذہن میں دوبارہ گھوم گئی. سب سے پہلے تو آپ یہ سمجھ لیں کہ یہوداہ دوست نہیں دشمن ہے، اپنی کتاب میں اس نے سارا زور اس بات پر لگایا ہے کہ محمد کوئی تاریخی شخصیت نہیں اور نہ ہی قرآن مجید کوئی الہامی کتاب ہے. محمد ایک خیالی کردار ہے جسے چودہ سو سال پہلے مصنفین نے کھڑا کیا اور بعد کے آنے والے مصنفین مؤرخین مکھی پہ مکھی مارتے ہوئے محمد کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتے رہے.
اس آرگومنٹ کا سب سے بہترین جواب یہی ہو سکتا ہے کہ مسلمان مؤرخین مصنفین تو پاگل تھے، اندھے عقیدے اور عقیدت میں محمد کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے رہے، ہم مان لیتے ہیں. لیکن اس دور کے عیسائی اور یہودی مورخین پاگل ہیں جو محمد کی تعریف و توصیف بیان کرنے لگے. اور جنہوں نے تعریف نہیں کی برائیاں بیان کیں کم از کم انہوں نے بھی زکر تو کیا. اگر محمد کا اچھا یا برا تذکرہ چودہ سو سال قبل عیسائیوں یہودیوں کی کتابوں سے نکل آئے تو محمد بطور شخصیت ثابت ہو جائے گا. اور محض خیالی کردار کا دعویٰ باطل ٹھہرے گا.
میں اپنی اس پوسٹ میں اس کتاب کا مدلل مفصل اور منہ توڑ جواب دینے کی کوشش کروں گا، ظاہر ہے کہ میرے پاس نیویارک میں بیٹھے یہوداہ جتنی فنڈنگ اور وسائل میسر نہیں پھر بھی کوشش ہو گی کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے دفاع میں اپنی ادنیٰ کاوش بارگاہ رسالت میں پیش کر سکوں.
اپنے مؤقف کی تائید میں پہلی کتاب چودہ سو سال پہلے لکھی گئی The Chronicle of 640 پیش کروں گا، یہ کتاب میسوپوٹیمیا کے ایک پادری نے لکھی. سریانی زبان میں لکھی جانے والی اس کو the Chronicle of 724 یا کتاب الخلفاء بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس کے آخر میں رسول اللہ کے ساتھ ساتھ چار خلفائے راشدین کا بھی زکر کیا گیا ہے.
دوسری کتاب مارٹن لنگز کی Muhammad: His Life Based on the Earliest Sources پیش کروں گا. مارٹن لنگز عیسائی پروٹسٹنٹ گھرانے میں پیدا ہوا، اس نے اسلام کو پڑھ کر قبول کیا. یہ کتاب 1983 میں پبلش ہوئی اور اس کتاب میں مارٹن لنگز نے رسول اللہ کی جنگوں پر کافی اچھا کام کیا ہے.
تیسری کتاب کِسٹر ایم جے کی بنو قریظہ میں قتل عام پر لکھی گئی The Massacre of the Banū Qurayẓa: A Re-examination of a Tradition. یہ کتاب 1986 میں چھپی اور اس میں بھی اسلامی تواریخ کا استعمال بہت کم کیا گیا ہے.
چوتھی کتاب جرمن سکالر لوطز برجر کی Die Entstehung des Islam. Die ersten hundert Jahre ہے، اس میں بھی رسول اللہ کی جنگوں پر مفصل تبصرہ کیا گیا ہے اور اسلامی سورس استعمال نہیں کیے گئے.
پانچویں کتاب اوکلاہاما یونیورسٹی سے پبلش ہونے والی جیبرائیل رچرڈز کی Muhammad: Islam’s First Great General ہے. اس میں بھی محمد رسول اللہ کی جنگی حکمت عملی پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے اور ہر جنگ کے پہلے، دوران اور بعد کے حالات پر روشنی ڈالی گئی ہے.
آخری اور سب سے بڑا ثبوت جنگ یرموک ہے، بازنطینی سلطنت کے ایک لاکھ چالیس ہزار سپاہیوں کے سامنے صرف پچیس ہزار صحابہ کرام کھڑے ہیں. پندرہ ہزار کی کُمک مزید آ جاتی ہے. مسلمانوں کی طرف سے خالد بن ولید، عبیدہ بن جراح، عمرو بن عاص اور مالک اشتر جیسے جری بہادر اصحاب شامل ہیں. جنگ یرموک کو انگریز the battle of Gabitha کے نام سے یاد کرتے ہیں. صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ایسی بےجگری سے لڑے کہ بازنطینی افواج کے پاؤں اکھڑ گئے، آدھی سے زیادہ فوج کاٹ کر رکھ دی اور باقی آدھی ایسی بھاگی کہ پیچھے مڑ کر نہ دیکھا. یرموک کے زخم آج تک چاٹ رہے ہیں. اب آپ عیسائیوں اور یہودیوں کے کسی بھی مؤرخ کی کوئی بھی کتاب اٹھا کر دیکھ لیں یہ لوگ سلطنت روم اور سلطنت فارس کی بربادی کا انکار نہیں کر سکتے. اور جب بھی سلطنت روم کا زکر آئے گا، جب بھی سورۃ روم پڑھی جائے گی رسول اللہ کی زات اقدس مجسم حقیقت بن کر سامنے کھڑی ہو جائے گی.
میں رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی زندگی پر غیر مسلموں کی طرف سے لکھی گئی کئی دیگر کتابیں بھی پیش کر سکتا ہوں، اور یہ بھی ضروری نہیں کہ ان کتابوں میں محمد کی تعریف کی گئی ہو. اگر محمد کے خلاف بھی کتابیں جمع کر لی جائیں پھر بھی محمد بطور تاریخی شخصیت ثابت ہو جاتے ہیں.
حق بات تو یہ ہے کہ محمد رسول اللہ کے حق میں اور خلاف آج تک جتنی بھی کتابیں لکھی گئی ہیں کسی نے بھی زات محمدی کی حقیقت سے انکار کرنے کی جرآت نہیں کی. محمد دنیا کی تاریخ میں سب سے زیادہ روشن اور چمکتا ستارہ ہے. جون جولائی کی چلچلاتی دوپہر میں سورج کا انکار کیا جا سکتا ہے لیکن محمد اکرم کی زات اقدس کا انکار ممکن نہیں.
قمر نقیب خان

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button