خلیج اردو آن لائن:
متحدہ عرب امارات کے بعد مراکش بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لیے رضامند ہوگیا ہے۔ جس کے ساتھ مراکش اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے والا چوتھا ملک بن گیا ہے۔
جمعرات کے روز دونوں ملک تعلقات معمول پر لانے پر رضامند ہوئے ہیں۔ دیگر ممالک کی طرح اس معاہدے میں بھی امریکہ کا کردار شامل ہے۔
اس معاہدے کے تحت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متنازعہ علاقے مغربی صحارا پر مراکش کی خود مختاری کو تسلیم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ مغربی صحارا میں مراکش کا پچھلی کئی دہائیوں سے آزادی پسندوں کےساتھ تنازعہ جاری ہے۔
صدر ٹرمپ نے جمعرات کے روز مراکش کے بادشاہ محمد کو فون کر کے اس معاہدے کو حتمی شکل دی۔
Another HISTORIC breakthrough today! Our two GREAT friends Israel and the Kingdom of Morocco have agreed to full diplomatic relations – a massive breakthrough for peace in the Middle East!
— Donald J. Trump (@realDonaldTrump) December 10, 2020
یاد رہے کہ اس سال اگست سے ابتک اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کرنے والے عرب ممالک میں مراکش چوتھے نمبر پر ہے۔ اس سے پہلے یو اے ای، بحرین، اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات بحال کر چکے ہیں۔
اس معاہدے کے بعد اب مراکش اسرائیل کے ساتھ اپنے تمام سفارتی تعلقات بحال کرے گا، اور اسرائیل کے ساتھ سرکاری طور پر رابطے میں آجائے گا۔
اس کے علاوہ اسرائیل کے براہ راست پروازوں کی اجازت دے دی جائے گی۔
Source: Gulf News






