پاکستانی خبریں

زلفی بخاری کا ہزارہ برادری کے مظاہرین سے مکالمہ ، متنازع گفتگو پر سوشل میڈیا سیخ پا

 

خلیج اردو

06 جنوری 2021
عاطف خان خٹک
کوئٹہ : پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے علاقے مچھ میں ہزارہ برادری کے 10 افراد کے قتل کے بعد ہزارہ برادری کی جانب سے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ وزیر اعظم کے معاون خصوصی زلفی بخاری اور وفاقی وزیر علی زیدی نے ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کے ہمراہ کان کنوں کے لواحقین سے ملاقات کی ہے جس دوران مظاہرین اور حکومتی نمائندوں کی گفتگو سے متعلق ایک چھوٹی سے ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کررہی ہے جس میں زلفی بخاری لواحقین سے احتجاج ختم کرنے کی درخواست کررہے ہیں۔

اس مکالمے کے دوران زلفی بخاری کی جانب سے ادا کیے جانے والے الفاظ پر سوشل میڈیا صارفین ناراضی کا اظہار کررہے ہیں۔ زلفی بخاری لواحقین سے کہتا ہے کہ اگر وزیر اعظم یہاں آتے ہیں تو آپ ان کو کیا فائدہ دیں گے۔ وہ اپنے الفاظ کو دوبارہ سے جوڑنے کی کوشش کرتے ہوئے کہتےہیں کہ اگر وزیر اعظم یہاں آتے ہیں تو کیا ذمہ داری لیں گے کہ کوئی خوشگوار واقعہ پھر پیش نہیں ہوگا۔

زلفی بخاری کہتا ہے کہ اگر آپ لوگ اسی طرح بضد رہے تو یہ ایک ٹرینڈ بن جائے گا اور کل کو کوئی اور واقعہ پیش آئے تو احتجاج کرنے والے ایسے ہی مطالبات کریں گے۔

مسٹر بخاری یہ بتانے کی کوشش کررہے ہیں کہ اس طرح کے احتجاج اور مطالبات سے کی کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا اور ملک کو نقصان پہنچے گا۔ احتجاج کرنے والے فریق کی جانب سے بظاہر ان مذاکرات میں لواحقین کی نمائندگی کرنے والوں کا موقف ہے کہ اگر وزیر اعظم یہاں آکر غمزدہ خاندانوں سے ملاقات کرتے ہیں تو ان کی حوصلہ افزائی ہو گی۔ وزیر اعظم پہلے بھی ایسے واقعات پر لواحقین سے ملتے رہے ہیں۔

ایک شخص زلفی بخاری سے سوال کرتا ہے کہ آپ ہم پر احتجاج ختم کرنے کیلئے اصرار تو کررہے ہیں لیکن اپنے اداروں سے سوال نہیں کرتے کہ ان دہشتگردوں کا کیا ہوا جنہوں نے ایسے واقعات میں بے گناہ عوام کا خون کیا۔

زیشان علی نامی صارف نے پوچھا ہے کہ کیا اسی لیے کاروباری حضرات کو لایا گیا تھا کہ وہ سڑک پر رکھی لاشوں کے لواحقین سے پوچھیں: ‘ہمیں کیا فائدہ دیں گے’؟

بلوچستان کے علاقے مچھ میں شدت پسندوں کے ایک حملے میں دس کوئلہ کان کنوں کے قتل کے خلاف کوئٹہ میں ہزارہ برادری کا واقعت کے دن کے بعد سے میتوں کے ہمراہ احتجاجی دھرنا جاری ہے۔
ان مظاہرین سے وزیر داخلہ شیخ رشید نے ملاقات بھی کی ہے تاہم مظاہرین وزیر اعظم سے ملاقات پر بضد ہیں۔

ہزارہ برادری کا لاشوں کے ہمراہ دھرنا دینے کا یہ پہلا موقع نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی وہ کئی مواقع پر اس طرز کا سخت احتجاج ریکارڈ کر کے عالمی سطح پر توجہ حاصل کر چکے ہیں۔ پہلا دھرنا 2013 میں دیا گیا تھا جب کوئٹہ کے ہزارہ اکثریتی آبادی والے علاقے علمدار روڈ پر واقع ایک سنوکر کلب میں خودکش حملہ کیا گیا۔ ہجوم کے جمع ہونے کے بعد ایک دوسرا حملہ بھی ہوا اور ن دونوں حملوں میں 120 سے زائد افراد ہلاک اور 200 کے قریب زخمی ہوئے۔

مرنے والے 86 افراد کے لواحقین نے میتوں کی تدفین سے انکار کرتے ہوئے مسلسل چار روز تک شدید سردی میں لاشوں کے ہمراہ کھلے آسمان تلے احتجاجی دھرنا دیا۔ اس احتجاج نے عالمی سطح پر بھی توجہ حاصل کی۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button