ٹپسمتحدہ عرب امارات

سیاحتی ویزہ استعمال کرتے ہوئے امارات میں کام کرنے سے متعلق الرٹ جاری ، آپ کو ڈیپورٹ کیا جا سکتا ہے

خلیج اردو
10 جنوری 2021
دبئی : دیگر ممالک کے برعکس متحدہ عرب امارات میں قانون کے حوالے سے عوام کو اگاہی کیلئے ہر طرح کے فورم استعمال ہوتے ہیں۔ آپ کو ذرائع ابلاغ سے قانون بارے اگاہی دی جاتی ہے تاکہ آُ اپنے فرائض اور حقوق سے باخبر رہیں۔
خلیج ٹائمز سے ایک شخص نے سوال پوچھا ہے جس کا تعلق متحدہ عرب امارات میں ویزٹ ویزہ پر موجود افراد کیلئے سودمند ہو سکتا ہے۔ ذیل میں سوال اور اس کا جواب دیا گیا ہے تاکہ عوام کو اس سے متعلق وضاحت ملے۔

سوال : میں دبئی میں ویزٹ ویزہ پر آیا ہوں ۔ میں نے دو مرتبہ اپنا ویزہ ری نیو کیا ہے اور میں ملازمت کی تلاش میں ہوں۔ میری بیٹی جو 19 سال کی ہے ، وہ بھی یہاں ویزٹ ویزہ پر موجود ہے۔ وہ اپنے آپ کو سپورٹ کرنے کیلئے ملازمت کی تلاش میں ہے۔ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا طلباء کیلئے ویزٹ ویزہ پر کام کی اجازت ہے؟
جواب : آپ کے سوال کی موفقت سے آپ کو بتائیں کہ وفاقی قانون 1973 کی شک 6 جو ایمیگریشن اور رہائش سے متلق ہے، اسے 1985 میں اس کی ترمیم کی گئی ، کا یہاں اطلاق ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ 1996 کے قانون 13 ، 2017 میں وفاقی فرمان 17 کا بھی یہاں اطلاق ہوتا ہے اور 1980 کی شک 8 جو ملازمین کے امور سے متعلق ہے ، کا بھی اطلاق ہوتا ہے۔

یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ متحدہ عرب امارات میں ورکنگ ویزہ کے بغیر کام کرنا غیر قانونی ہے۔ اگر آپ کے پاس انسانی حقوق اور ایمریٹیائزیشن کی جانب سے اجازت نامہ نہیں تو کام کرنا غیر قانونی ہے۔ یہ ایمگریشن لاء نمبر 11 کے موافق ہے جس کے مطابق وہ غیر ملکی جسے ملک میں داخلے کیلئے ویزٹ ویزہ دیا جاتا ہے ، اسے یہان کام کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ وہ تنخواہ یا بغیر تنخواہ کے کسی بھی طرح کا کام نہیں کر پائے گا۔ اگر ویزہ ہولڈر فرد واحد ہے یا وہ کسی ادارہ کی جانب سے ویزہ پر ہے ، اسے کسی بھی طرح کام کی اجازت نہیں ہو گی۔ تاہم اگر نیشنل ڈائریکٹوریٹ اینڈ ایمگریشن سے انہیں تحریری اجازت ملتی ہے تو پھر اسے کام کرنے کی اجازت ہوگی ۔

منلازمت کے قانون نمبر 13 کے مطابق ، وہ ملازمین جو متحدہ عرب امارات کے شہری نہیں ہیں ، انہیں امارات وزارت انسانی وسائل اور ایمریٹائزیشن کی منظوری کے بعد ملازمت کی اجازت ہو گی۔ انہیں ورک مرمٹ دو صورتوں میں ملے گا۔
(a) اگر اس شخص کی تعلیمی قابلیت یا اسکلز کی ضرورت ملک کو ہوگی۔
( b) اگر وہ شخص قانونی طریقے سے ملک میں تمام شرائط و ضوابط کے مطابق آیا ہو۔

آپ کے سوال کے مطابق آپ کی بیٹی جو طلبہ ہے اور متحدہ عرب امارات میں ویزٹ ویزہ پر ہے ، وہ متحدہ عرب امارات کی شہری نہیں ہے۔ یہاں ملازمت کیلئے آپ کی بیٹی کو ورک پرمٹ کی اجازت ہونی چاہیئے۔ اسے انسانی وسائل اور ایمریٹائزیشن سے اجازت نامہ لینا چاہیئے۔ اگر وہاں سے اجازت ملتی ہے تو آپ کی بیٹی کو ڈی جی آر ایف اے کی جانب سے رہائشی ویزہ دیا جا سکتا ہے۔

اس کے بغیر اگر آپ کی بیٹی ویزٹ ویزہ پر یہاں کام کررہی ہے تو یہ غیر قانونی ہے اور اسے کام کی اجازت دینے والے کو جرمانہ ہو سکتا ہے۔ یہ آرٹیکل 34 ون کے عین مطابق ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اس شخص یا کمپنی کو 50 ہزار درہم کا جرمانہ کیا جائے جو کسی غیر ملکی کو تمام لوازمات پورے کیے بغیر نوکری دے۔ لازمی پرمٹ کے بغیر غیر ملکی کو کام پر رکھنا جرم ہے۔ یہی جرمانہ غیر قانونی طریقے سے کام کرنے والے کو بھی ہوگا۔ اسے نہ صرف نوکری سے ہاتھ دھو کر جرمانہ ہونا پڑے گا بلکہ ملک بدر بھی کیا جائے گا۔

دوسری طرف آپ کیلئے یہی ہے کہ جب ایک دفعہ آپ کو رہائشی ویزہ ملے ہے تو آُ اپنی بیٹی کے اسپانسر بن کر اس کیلئے این او سی لے سکتے ہیں اور آپ اس کیلئے درخواست دے سکتے ہیں۔ آپ کی بیٹی کے پاس موقع ہے کہ وہ اسٹوڈنٹ ویزہ کیلئے اپلائی کرکے ملک کے کسی بھی یونیورسٹی میں تعلیم کیلئے درخواست دے سکتی ہے۔ ایسے میں جب اسے یہاں کسی تعلیمی ادارے میں داخلہ مل جائے گا ، وہ اپنی یونیورسٹی سے اجازت نامہ لے کر یہاں کام کر سکتی ہے۔

Source : Khaleej Times

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button