عالمی خبریں

عراق کے دارالحکومت بغداد میں دو خود کش دھماکے، 32 افراد جانبحق، 110 زخمی

 

خلیج اردو آن لائن:

عراق کے درالحکومت بغداد کی ایک مارکیٹ میں دو خود کش بمباروں اپنے اپنے کو دھماکے سے اڑا لیا۔

دھماکے کے نتیجے میں 32 افراد جانبحق 110 زخمی۔

حکام کا کہنا کہ آج کے دھماکے عراق میں 3  سال بعد ہونے والے سب سے بڑے دھماکے ہیں۔ اور یہ دھماکے داعش کے دوبارہ سے فعال ہونے کی نشاندہی کر رہےہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے صحافی دھماکوں کے بعد دھماکوں کےمقام پرپہنچے تو انہوں نے جابجا خون اور جانبحق اور زخمی ہونے والوں کے جوتے بکھرے ہوئے دیکھے۔

دھماکے کپڑے کی مارکیٹ میں کیے گئے۔

صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ایک دکاندار نے بتایا کہ "ایک خود کش حملہ آور مارکیٹ میں آیا اور زمین پر لیٹ گیا اور پیٹ میں درد کی شکایت کرنے لگا۔ اور اس نے اپنے میں پکڑا دبا دیا جس سے زور دار دھماکہ ہوا اور لوگ کے چیتھڑے اڑ گئے”۔

خیال رہے کہ 2017 میں داعش کا شکست دینے سے پہلے عراق دارالحکومت بغداد میں دھماکے روز کا معمول تھا۔ تاہم 2017 میں داعش کو شکست دینے کے بعد دھماکے ختم ہو گئے تھے اور بغداد میں زندگی معمول کی طرف لوٹ آئی تھی۔

اس لیے آج کے دھماکوں کو 3 سالوں میں ہونے والے سب سے بڑے دھماکے شمار کیا جا رہا ہے۔ اور ان دھماکوں میں داعش کے ملوث ہونے کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا رہا۔

عراق کے سول ڈیفنس کے چیف میجر جنرل خادم سلمان نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "ممکن ہے کہ ان دھماکوں کےہیچھے داعش کا ہاتھ ہو”۔

دھماکے کے فوری بعد عراق کے وزیر اعظم نے فوری طور اعلی فوجی قیادت کی میٹنگ بلائی اور دھماکوں سے متعلق صورتحال پر بات چیت کی۔

دھماکوں کے بعد سیکیورٹی میں اضافہ کردیا گیا اور اہم شاہراہوں کو بند کر دیا گیا۔ تاکہ مزید ممکنہ دھماکے سے بچا جا سکے۔

Source: Khaleej Times

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button