خلیج اردو آن لائن:
پاکستان کے الیکشن نے پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس میں جانچ پڑتال کو خفیہ رکھنے کے بارے میں وضاحت حاصل کرنے کے لیے وزیر اعظم عمران کی پارٹی، تحریک انصاف اور پارٹی کی اپنی جانچ پڑتال کی کمیٹی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 22 مارچ کو کمیشن کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔
پاکستان کے نجی خبر رساں ادارے ڈان کی رپورٹ کے مطابق نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ ریٹائرڈ جسٹس ارشاد قیصر کی سربراہی میں بننے والے الیکشن کمیشن کے تین رکنی بنچ کی جانب سے منگل کے روز اکبر ایس بابر کی جانب سے داخل کردہ درخواست کی سماعت کے دوران کیا گیا ہے۔
اس کیس کے درخواست کنندہ اکبر ایس بابر نے پی ٹی آئی کی دستاویزات خفیہ رکھنے کے سکروٹنی کمیٹی کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔ منگل کے روز سماعت کے دوران اکبر ایس بابر کے وکیل نے سکروٹنی کمیٹی کے اس فیصلے کو چیلنج کیا اور معلومات تک رسائی کے حق کے قانون کے تحت پی ٹی آئی کی دستاویزات تک رسائی کا مطالبہ کیا۔
وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ کمیٹی کی جانب سے دستاویزات خفیہ رکھنے کا حکم غیر قانونی ہے۔ وکیل کا مزید کہنا تھا کہ سکروٹنی کمیٹی نے غیر قانونی غیر ملکی فنڈنگ کے قابل اعتبار ثبوتوں کے باوجود کوئی تفتیش نہیں کی، پی ٹی آئی کی دستاویزات تک رسائی کے لیے محض اسٹٰیٹ بینک کو ایک خط لکھا گیا ہے۔
مزید برآں، اکبر ایس بابر کے وکیل نے سکروٹنی کمیٹٰی کی جانب سے آرڈر شیٹ کے کچھ پیرے پڑہے جن میں لکھا تھا کہ کمیٹی نے پی ٹی آئی کے پریشر کی وجہ سے دستاویزات شیئر کرنے سے انکار کیا ہے۔
Source: Khaleej Times






