
خلیج اردو: متحدہ عرب امارات میں ایک غیر ملکی نے اپنی بیوی کے سامنے پُل سے کود کر خود کُشی کر لی۔ یہ واقعہ اماراتی ریاست عجمان میں شام کے وقت پیش آیا ہے۔ خلیج ٹائمز کے مطابق مرنے والے ایشیائی شخص کی عمر 42 سال ہے۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق یہ شخص کورونا کا شکار ہو گیا تھا، جس کی وجہ سے وہ قرنطینہ کے پیریڈ سے گزر رہا تھا۔
اس شخص کو خدشہ تھا کہ کمپنی اس کی غیر حاضری پر اسے ملازمت سے نکال دے گی۔ الحمیدیہ پولیس اسٹشین کے سربراہ لیفٹیننٹ کرنل یحییٰ خلف المطروشی نے بتایا کہ پولیس آپریشن روم کو شام کے وقت اس بدنصیب شخص کی بیوی اور جائے وقوعہ پر موجود دیگر افرادنے اطلاع دی تھی کہ ایک شخص نے الروادا برِج سے چھلانگ لگا دی ہے اور شدید زخمی حالت میں پڑا ہے۔
اطلاع ملتے ساتھ ہی ریسکیو ٹیمیں اور پولیس پٹرولنگ اہلکاروں کو جائے وقوعہ پر بھیج دیا گیا۔ تاہم یہ شخص اونچائی سے گرنے کی وجہ سے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا۔ مرنے والے کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے قریبی ہسپتال منتقل کر دی گئی ہے۔ لیفٹیننٹ کرنل المطروشی نے بتایا کہ اس شخص کی بیوی کا کہنا تھا کہ اس کے خاوند میں چند روز قبل کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی، جس کی وجہ سے وہ قرنطینہ کے مرحلے سے گزر رہا تھا۔
اس کا خاوند ایک نجی کمپنی میں ملازمت کرتا تھا۔ اسے پانچ روز قرنطینہ میں گزر گئے تھے۔ قرنطینہ رِسٹ بینڈ لگے ہونے کی وجہ سے اس کے باہر نکلنے پر بھی پابندی تھی، تاہم وقوعہ کے روز وہ زبردستی اپنی گاڑی پر باہر کو نکل پڑا اور اپنی بیوی کو بھی ساتھ لے لیا۔ حالانکہ اماراتی قانون کے مطابق قرنطینہ اختیار کرنے والوں کو چار دیواری سے باہر آنے کی اجازت نہیں ہوتی۔
بیوی بھی اس کے ساتھ گاڑی میں سوار ہو گئی تھی۔ تاہم گاڑی جونہی الراودا برِج پر پہنچی ،خاونداچانک گاڑی روک کر باہر نکلا اور بیوی کو خدا حافظ اور بچوں کا خیال رکھنے کا کہہ کر پُل سے نیچے کود گیا۔ بیوی کے مطابق یہ سب اتنی جلدی ہوا کہ اسے روکنے کا بھی موقع نہ مِلا۔ کورونا بیماری کے دوران اس کا خاوند شدید ذہنی تناؤ کا شکار ہو گیا تھا اور مرنے کی باتیں کرتا تھا۔ وہ اکثر کہتا تھا کہ قرنطینہ کی وجہ سے دفتر سے غیر حاضری پر اس کی کمپنی نے ملازمت سے نکال دیا تو وہ سب بہت بُرے حالات کا شکار ہو جائیں گے۔ اسی ذہنی پریشانی کی وجہ سے اس نے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا






