خلیجی خبریں

سعودی عرب ان تمام کوششوں کی حمایت کرے گا جو ایران کو نیوکلیئر ہتھیار بنانے سے روکتی ہوں، شاہ سلمان

خلیج اردو
23 ستمبر 2021
ریاض : خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیر نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں بتایا ہے کہ سعودی عرب تمام کوششوں کی حمایت کرے گا جو ایران کو ایٹمی طاقت بننے سے روکیں۔ انہوں عالمی طاقتوں پر زور دیا کہ ایران کو 2015 جوہری معاہدے کی پاسداری پر قائل کریں۔

سعودی عرب کے بادشاہ نے کہا کہ سعودی عرب عالمی رہنماؤں پر زور دیتا ہے کہ خطے کو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے پاک کیا جائے۔ انہوں نے اجلاس کیلئے ویڈیو پیغام میں یہ کہا ہے۔ ہم ایران کو ہتھیاروں کے حصول سے محدود کرنے والی کوششوں کی حمایت کریں گے۔

ایران اور سعودی عرب برسوں سے حریف رہے ہیں۔ دونوں ممالک نے 2016 میں سفارتی تعلقات ختم کیے تھے۔ دونوں ممالک کے درمیان تنازعات کے خاتمے کیلئے مزاکرات ہوتے رہے ہیں۔

شاہ سلمان نے کہا کہ ایران اور سعودی عرب پڑوسی ممالک ہیں اور ہمیں امید ہے کہ ہمارے امن کی خواہش اور مزاکرات کی دعوت کا مثبت جواب دے کر برابری کی سطح پر اور ہماری سالمیت اور ملک میں دخل اندازی نہ کرکے ہمارا احترام کیا جائے گا۔

ان کا بیان ایران صدر کے عالمی رہنماؤں سے نیوکیئر ڈیل سے متعلق مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے اپیل کے بعد ہیں۔ منگل کو سعودی وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر اپنے ایرانی ہم منصب سے ملاقات کی ہے۔

اپنے خطاب میں شاہ سلمان نے کہا کہ یمن کے حوثی باغیوں جنگ کے خاتمے کیلئے پرامن اقدامات کو مسترد کر رہے ہیں اور سعودی عرب بیلسٹک میزائلوں اور مسلح ڈرونز سے اپنا دفاع کرے گا۔

85 سالہ حکمران نے کہا کہ سعودیہ نے گزشتہ پانچ سالوں میں بڑے اقدامات کیے ہیں جب سے ان کے وارث ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے معیشت کو تیل پر انحصار اور دیگر تبدیلیوں سے دور کرنے کیلئے ایک انقلابی منصوبہ شروع کیا ہے۔

انہوں نے انتہا پسندی سے لڑنے والے سعودی عرب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سعودیہ انتہا پسندانہ سوچ سے لڑ رہی ہے جو نفرت پر مبنی ہے اور دہشت گرد تنظیموں اور فرقہ وارانہ جنجوؤں کو روکتی ہے جو انسانیت اور قوموں کے دشمن ہیں۔

Source : Khaleej Times

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button