کالم

چائے کی کہانی: قدیم چین سے پاکستان کے ڈھابوں تک

خلیج اردو
تحریر محمد عبدالسلام خان
چائے 2737 قبل مسیح میں قدیم چین میں دریافت ہوئی، جب چینی بادشاہ شین نونگ کے سامنے غلطی سے چائے کے پتے گرم، ابلتے پانی میں گر گئے۔ اس واقعے کے بعد، چائے نے آہستہ آہستہ اپنی جگہ بنا لی اور 618 سے 907 عیسوی کے دوران ٹانگ سلطنت میں ایک بنیادی مشروب کے طور پر مقبول ہو گئی۔ اس دور میں چائے چین کی ثقافت میں مکمل طور پر سرایت کر گئی، اور شاہی محفلوں، علمی نشستوں اور روحانی تقریبات کا اہم حصہ بن گئی۔

بعد میں سانگ سلطنت (960-1279 عیسوی) کے دوران چائے چین کے بعد جاپان میں بھی عام ہوئی۔ بدھ مت کے راہبوں نے چائے کو جاپان منتقل کیا، جہاں یہ روحانی رسوم اور عبادات کا لازمی حصہ بن گئی۔ جاپان میں چنویو نامی چائے کی ایک مخصوص تقریب منعقد ہونے لگی، جو آج بھی جاپانی ثقافت کا اہم جزو ہے۔

چائے کا سفر چین سے شاہراہِ ریشم (Silk Road) کے ذریعے ایران، مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا تک پہنچا۔ 16ویں صدی (1500 عیسوی) میں پرتگالی اور ولندیزی تاجروں کے ذریعے چائے یورپ پہنچی۔ 1660 عیسوی میں پرتگالی شہزادی کترین آف براگنزہ نے برطانوی بادشاہ چارلس دوم سے شادی کی اور اس کے ساتھ ہی چائے کو برطانیہ میں متعارف کرایا گیا، جو بعد میں برطانوی ثقافت کا ایک لازمی حصہ بن گئی۔

چائے، برطانیہ اور افیون جنگیں
18ویں اور 19ویں صدی میں چائے برطانیہ میں اتنی مقبول ہو چکی تھی کہ برطانیہ چین سے بڑی مقدار میں چائے درآمد* کرنے لگا، لیکن اس کا تجارتی توازن بگڑنے لگا۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے، برطانیہ نے افیون کو چین برآمد کرنا شروع کیا، جس کے نتیجے میں افیون جنگیں (1839-1860) ہوئیں۔ برطانیہ نے چین پر قبضہ کر لیا اور چائے کی تجارت کو اپنے حق میں کر لیا۔ اس کے ساتھ ہی، چینی چائے پر انحصار کم کرنے کے لیے برطانیہ نے آسام اور دارجلنگ (ہندوستان) میں چائے کی بڑے پیمانے پر کاشت شروع کی، جس نے ہندوستان کو چائے کی عالمی صنعت میں ایک بڑا کھلاڑی بنا دیا۔

چائے کی جنوبی ایشیا میں مقبولیت
برطانوی راج کے دوران ہندوستان میں چائے عام ہوئی اور بعد میں یہ پاکستان میں بھی بے حد مقبول ہو گئی۔ آج چائے نہ صرف پاکستانی ثقافت بلکہ روزمرہ کی زندگی کا بھی ایک لازمی جزو بن چکی ہے۔ شادی بیاہ، غم و خوشی کے مواقع اور مہمان نوازی میں چائے سب سے اہم مشروب سمجھی جاتی ہے۔ خاص طور پر پشتون ثقافت میں چائے کو انتہائی عزت دی جاتی ہے، جہاں دن میں کئی مرتبہ چائے پینا عام ہے۔ سردیوں میں لوگ حجرے اور ڈیرے سجاتے ہیں، حلوہ، مونگ پھلی اور چائے کے ساتھ محفلیں منعقد کرتے ہیں، جہاں شاعری، موسیقی اور گپ شپ ہوتی ہے۔

چائے پر مشہور شاعری
چائے کی اہمیت کو شاعروں نے بھی خوب اجاگر کیا ہے۔
تابش صدیقی چائے کے بارے میں کہتے ہیں:
اس میں چینی بھی ہو، ادرک بھی ہو، بالائی بھی
تم نے دیکھی ہے کہیں ایسی نرالی چائے

اسی طرح عابد سیال نے چائے کی محفلوں کو یوں بیان کیا:

یہ چائے خانوں کی میزوں پہ قہقہوں کے شریک
دلوں میں جھانک کے دیکھو تو سب کے سب تنہا
ایک اور شاعر صاحب ارشاد فرماتے ہیں
دنیا میں شوروغل ہے ، بے بسی ہے ، جنون ہے ایک بس چائے ہی ہے
جس میں مزہ ہے ، لطف ہے ، سکون ہے

پاکستان اور دنیا میں چائے کے اعداد و شمار
– پاکستان میں سالانہ 165,000 ٹن چائے استعمال کی جاتی ہے، جس کی مالیت تقریباً 400 ملین امریکی ڈالر بنتی ہے۔
– عالمی سطح پر چائے
* پانی کے بعد سب سے زیادہ پیا جانے والا مشروب ہے۔
– دنیا بھر میں سالانہ 6 ملین ٹن چائے پیدا کی جاتی ہے، جس کی عالمی مارکیٹ کی مالیت تقریباً 55 بلین امریکی ڈالر ہے۔
– چین، بھارت، سری لنکا اور کینیا چائے پیدا کرنے والے سب سے بڑے ممالک ہیں، جبکہ برطانیہ، روس، پاکستان اور ترکی چائے کے سب سے بڑے صارف ہیں۔
کینیا، سری لنکا اور بھارت چائے کی برآمدات سے نمایاں آمدنی حاصل کرتے ہیں۔ کینیا کی چائے برآمدات 2020 میں 1.2 بلین ڈالر تھیں۔ سری لنکا نے 2020 میں چائے کی برآمدات سے 1.24 بلین ڈالر کمائے۔ بھارت کی چائے برآمدات 2020-21 میں 755 ملین ڈالر رہیں۔

دنیا کے مشہور چائے کے اقسام اور برانڈز
🔺 چائے کی مختلف اقسام:
– الوونگ ٹی (چین) | ہلکی خمیر شدہ چائے
– ماتچا ٹی (جاپان)| سبز چائے کا باریک پاؤڈر
– ارل گرے (برطانیہ)| خوشبودار بلیک ٹی
– چاموسا (بھارت)| مسالے دار چائے
– دودھ پتی (پاکستان)| مکمل دودھ میں بنی چائے
– سلیمانی چائے (پاکستان/مشرق وسطیٰ)| بغیر دودھ کے ہلکی چائے
– کشمیری چائے (پاکستان)| نمکین اور خوشبودار گلابی چائے

🔺 مشہور برانڈز:
– لپٹن (برطانیہ)– دنیا بھر میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی چائے
– ٹوئننگز (برطانیہ) – تاریخی اور روایتی بلیک اور ہربل چائے
– ٹیٹلی (برطانیہ/کینیڈا) – مختلف ذائقوں میں دستیاب معیاری چائے
– یارکشائر ٹی (برطانیہ) – گہری اور مضبوط چائے
– ٹازو (امریکہ)– خوشبودار ہربل اور گرین ٹی
– سیلیسٹیئل سیزننگز (امریکہ) – جڑی بوٹیوں والی چائے
– دلمہ (سری لنکا) – خالص سیلون چائے
– احمد ٹی (برطانیہ) – اعلیٰ معیار کی بلیک اور گرین ٹی
– پی جی ٹپس (برطانیہ)
– – مضبوط ذائقے کی چائے
– بگلو ٹی (امریکہ) – مختلف ذائقوں کی منفرد چائے
– بروک بونڈ سپریم (پاکستان) – مضبوط اور متوازن چائے
– ٹپال ٹی (پاکستان)– روایتی اور خالص چائے
– وائٹل ٹی (پاکستان) – معیاری اور تازہ چائے
– کشمیر ٹی (پاکستان)– خاص طور پر کشمیری چائے کے لیے مشہور

تندوری مٹکا چائے*
آج کل پاکستان میں تندوری مٹکا چائے بے حد مقبول ہو رہی ہے۔ اس منفرد چائے کو تیار کرنے کے لیے پہلے مٹی کے مٹکے خاص طور پر بنائے جاتے ہیں، جنہیں تندور میں انتہائی گرم کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد تیار شدہ چائے ان گرم مٹکوں میں ڈالی جاتی ہے، جس سے اس کا ذائقہ مزید نکھر جاتا ہے۔ بعض جگہوں پر ان مٹکوں کو گرم ریت میں رکھ کر چائے ابالی جاتی ہے، جس سے چائے میں ایک دھواں دار مٹیالے ذائقے کی آمیزش ہو جاتی ہے۔ یہ منفرد انداز چائے کے شوقین افراد کے لیے ایک نیا اور دل چسپ تجربہ فراہم کرتا ہے، جو روزمرہ چائے سے ہٹ کر ایک روایتی اور دیسی

ذائقے سے بھرپور ہوتا ہے۔
چائے ایک عام مشروب سے بڑھ کر ثقافت، روایت، معیشت اور تاریخ کا حصہ بن چکی ہے۔ دنیا بھر میں لوگ اسے نہ صرف توانائی کے لیے پیتے ہیں بلکہ یہ محفلوں، ادبی نشستوں اور کاروباری ملاقاتوں کا بھی لازمی جزو ہے۔ پاکستان میں چائے روزمرہ کی زندگی کا ایک اہم حصہ ہے اور اس کی مقبولیت دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔ مستقبل میں چائے کی صنعت مزید ترقی کرے گی، اور اس کے نئے ذائقے اور اقسام عالمی مارکیٹ میں اپنی جگہ بنائیں گے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button