عالمی خبریں

سندھ طاس معاہدہ معطل، بھارت کا پاکستان سے سفارتی و عوامی تعلقات محدود کرنے کا فیصلہ

خلیج اردو
نئی دہلی: بھارت نے پاکستان کے ساتھ 1960 کے تاریخی سندھ طاس معاہدے کو معطل کر دیا ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق یہ فیصلہ وزیراعظم نریندر مودی کی زیر صدارت ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پانی کی تقسیم کے طویل المدتی معاہدے پر عملدرآمد روک دیا گیا ہے۔

بھارتی وزارت خارجہ نے مزید کہا ہے کہ اٹاری اور واہگہ بارڈر کو بند کیا جا رہا ہے اور پاکستان سے تعلق رکھنے والے تمام شہریوں کو 48 گھنٹوں کے اندر بھارت چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اعلامیے کے مطابق تمام پاکستانی شہریوں کے بھارتی ویزے منسوخ کر دیے گئے ہیں۔

علاوہ ازیں بھارت نے سارک ویزا استثنیٰ کے تحت پاکستانی شہریوں کے لیے بھارت کا سفر بند کرنے کا اعلان بھی کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ پاکستانی اب کسی علاقائی تعاون کے تحت بھی بھارت کا سفر نہیں کر سکیں گے۔

بھارت نے اسلام آباد سے اپنے تمام دفاعی اتاشیوں کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ پاکستانی ہائی کمیشن میں موجود بھارتی فوجی مشیروں کو ملک چھوڑنے کے لیے ایک ہفتے کی مہلت دی گئی ہے۔

بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کے ساتھ سفارتی تعلقات کو مزید محدود کیا جا رہا ہے، اور 2019 کے بعد سے کم درجے پر لائے گئے تعلقات کو اب مزید کم کیا جا رہا ہے۔ اس فیصلے کے تحت سفارتی عملے کی تعداد 55 سے گھٹا کر 30 کر دی جائے گی۔

حکام کے مطابق یہ اقدامات بھارت اور پاکستان کے تعلقات میں حالیہ کشیدگی کے پیش نظر کیے گئے ہیں، تاہم اس فیصلے کے علاقائی اثرات پر ماہرین میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button