
خلیج اردو
بئی دہلی:بھارتی وزارت خارجہ نے پاکستان کے ساتھ تعلقات میں ایک بڑی پیش رفت کرتے ہوئے سندھ طاس معاہدے کو فوری طور پر معطل کرنے، واہگہ بارڈر بند کرنے، اور پاکستانی شہریوں کو ویزے جاری نہ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ نئی دہلی میں ایک اہم پریس کانفرنس کے دوران بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی کہ بھارت پاکستان کے ساتھ سفارتی تعلقات کو مزید محدود کر رہا ہے۔
پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ:
-
تمام پاکستانی شہریوں کے بھارتی ویزے منسوخ کر دیے گئے ہیں۔
-
سارک کے تحت جاری ویزے بھی بند کیے جا رہے ہیں۔
-
پاکستان ہائی کمیشن کے عملے کو 7 روز میں واپس بھیجنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
-
اسلام آباد میں موجود بھارتی ہائی کمیشن کے عملے کی تعداد 55 سے کم کر کے 30 تک محدود کی جائے گی۔
-
پاکستان کی نیوی اور ایئر فورس کے اتاشیوں کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دیا گیا ہے۔
بھارت نے ان اقدامات کو "قومی سلامتی اور سفارتی ترجیحات کا حصہ” قرار دیا ہے، تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدامات دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید کشیدگی کا باعث بن سکتے ہیں۔
سندھ طاس معاہدے کی معطلی ایک غیر معمولی قدم ہے، جو پانی کے معاملات میں سنگین مضمرات رکھتا ہے، اور یہ فیصلہ جنوبی ایشیا میں ایک نئے بحران کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔ واہگہ بارڈر کی بندش سے دونوں ملکوں کے درمیان محدود زمینی رابطہ بھی مکمل طور پر منقطع ہو جائے گا۔







