
خلیج اردو
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں دو طرفہ تعلقات، علاقائی امن اور باہمی تعاون کے امکانات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ وزیراعظم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ باہمی دلچسپی کے شعبوں میں قریبی تعاون کا خواہاں ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے گفتگو کے دوران کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار جانوں کی قربانی دی اور ملک کو اس جنگ کے باعث 152 ارب ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان برداشت کرنا پڑا۔ انہوں نے خطے میں بھارت کے اشتعال انگیز رویے کو امن کی راہ میں بڑی رکاوٹ قرار دیا اور پہلگام واقعے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ دہرایا۔
وزیراعظم نے زور دیا کہ امریکہ کو چاہیے کہ وہ بھارت کو اشتعال انگیز بیانات سے باز رکھنے میں اپنا کردار ادا کرے۔ انہوں نے بھارت کی آبی جارحیت کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ سندھ طاس معاہدے سے انحراف ناقابل قبول ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر کا پُرامن حل ہی جنوبی ایشیا میں دیرپا امن کی ضمانت بن سکتا ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان اور امریکہ کے درمیان 70 سالہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک نے ہمیشہ مل کر کام کیا ہے اور مستقبل میں انسداد دہشت گردی، معیشت اور معدنیات کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دیا جا سکتا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے گفتگو کے دوران کہا کہ امن و استحکام کے لیے پاکستان اور امریکہ کو مل کر کام جاری رکھنا ہوگا۔






