سٹوریکالم

ہندوستان سے امن بدقسمتی سے آج کے حالات میں اینٹ کا جواب پتھر سے دیے بغیر ممکن ہی نہیں ہے لیکن دو جوہری ہتھیاروں والے ملک جب اینٹ کا جواب پتھر اور پتھر کا جواب بندوق سے دینے لگیں تو کون جانے اس کا خاتمہ کہاں جا کر ہو

خلیج اردو
تحریر: عمیر جاوید رانا
میاں نواز شریف کی اگر کوئی ایک پالیسی ہے جس سے مجھے اتفاق ہے تو وہ ان کی اس خطے میں امن اور ہندوستان سے دوستی کی خواہش ہے۔۔ عمران خان کی حکومت آئی تو انہوں نے بھی کہا کہ آپ ایک قدم آئیں ہم دو قدم آئیں گے۔۔۔ غرض پچھلے پندرہ سالوں میں پاکستان نے ہندوستان سے متعلق ایک نئی جہت اپنائی۔۔۔ پاکستانی سیاستدان اور ملٹری قیادت میں کم از کم اس بات پر پچھلی ڈیڑھ دھائی میں مکمل اتفاق نظر آیا کہ ہمیں ہندوستان سے اپنے مسائل حل کرنے چاہئے ہیں اور اس کا واحد راستہ ڈپلومیسی اور مذاکرات ہیں۔۔۔ لیکن اب مجھے لگتا ہے کہ ہندوستان نے تاریخ کا یہ نادر موقع کھو دیا ہے۔۔۔ آزاد تاریخ دان آج سے دو تین دہائیوں بعد جب اس دور کو بیان کریں گے تو وہ یقینا لکھیں گے کہ اس دور میں پاکستان نے حد درجے برداشت اور زمہ داری کا مظاہرہ کیا۔۔۔ لیکن المیہ یہ ہوا کہ ہندوستان میں اس دور میں ایک انتہا پسند نظریات کی حامل حکومت آئی جس نے ہندوستانی معاشرے کی سوچ بدلی اور عام ہندوستانی کا دھیان اس کے مسائل سے ہٹا کر صرف اور صرف اس کے جذبات اپنے ہمسائیوں کے حوالے سے بھڑکائے اور اس سے سیاسی فائدہ حاصل کیا۔۔۔ آج کا عام ہندوستانی یہ سمجھتا ہے کہ ہندوستان کوئی بہت بڑی معاشی طاقت بن چکا ہے، یا دفاعی لحاظ سے ہندوستان ناقابل تسخیر ہے۔۔۔ جبکہ ہر وہ شخص جو دیکھنے کو آنکھیں اور سوچنے کو دماغ رکھتا ہے وہ جانتا ہے کہ ایسا ہرگز نہیں ہے۔۔۔ معاشی طاقت کا اندازہ تو اس بات سے لگا لیں کہ ہندوستان 194 ممالک کی فہرست میں فی کس آمدنی کے حساب سے آج بھی 143ویں نمبر پر ہے۔۔۔ اور اس میں سے بھی ٹاٹا اور امبانی وغیرہ کو نکال دیں تو شاید باقی 99 فیصد آبادی دنیا کے آخری 25 ممالک میں آتی ہو۔۔۔ اور دفاع کی کہانی تو ہم 2019 میں ابھی تازہ تازہ دیکھ چکے ہیں۔

ایک مغربی جریدے نے پاکستان اور ہندوستان کے موجودہ حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ عجیب جنگ ہے جو بارڈر کے صرف ایک جانب لڑی جا رہی ہے۔۔۔ آپ ہندوستانی میڈیا لگائیں، حتی کہ ان کا باشعور طبقہ بھی ایک war hysteria میں مبتلا ہے۔۔۔ پاکستان کو نیست و نابود کرنے کی باتیں، یا پاکستان پر قبضہ کرنے کی باتیں کسی دیوانے کا خواب تو ہو سکتی ہیں لیکن عملی طور پر ایسا ہو پانا آج کی دنیا میں تو ناممکن اس لیے ہے کہ آپ جوہری ہتھیاروں کی حامل ریاست کو ہرگز گزند نہیں پہنچا سکتے جب تک کہ آپ اپنے وجود کو خطرے میں ڈالنے کو تیار نا ہوں۔

اس سب ڈرامے کی یہ قسط تو ہم پہلے بھی دیکھ چکے ہیں۔۔۔ جب بھی ہندوستان میں کسی قسم کا چناؤ آئے اور بھاجپا کی مقبولیت ڈانواں ڈول ہو تو یکدم کوئی دہشتگردی کی کاروائی ہوتی ہے جس کے چند ہی منٹوں میں ہندوستانی میڈیا کو یہ بھی پتا چل جاتا ہے کہ اس کی پلاننگ پاکستان میں ہوئی تھی۔۔۔ پھر چند دن خوب ہاہاکار مچتی ہے، اس ہاہا کار کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہندوستانی حکومت چپکے سے کوئی بڑی کاروائی ڈالتی ہے جیسا کہ اس مرتبہ سندھ طاس معاہدہ معطل کیا گیا اور پھر کچھ دن بعد سب نارمل ہو جاتا ہے۔

پاکستان نے تو اس حد تک برداشت اور بردباری کا مظاہرہ کیا کہ جب ہندوستان اور چین چند سال پہلے اکسائی چن کے علاقے میں لڑ رہے تھے تو سنہری موقع ہونے کے باوجود پاکستان نے کسی قسم کی کوئی ملٹری کاروائی نہیں کی۔لیکن اصل بات یہ ہے کہ اب بظاہر یہ لگتا ہے کہ پاکستان کا صبر جواب دیتا جا رہا ہے۔۔۔ اس مرتبہ آپ ملٹری اور سیاسی لوگوں کا لب و لہجہ اور الفاظ کا چناؤ دیکھیں تو سمجھ آتا ہے کہ اس مرتبہ پاکستان اس بات پر committed ہے کہ اگر ہندوستان کی جانب سے کوئی miss adventure ہوا تو پاکستان اس سے بڑے پیمانے پر جوابی کارروائی کرے گا۔۔ اس بات کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان میں اس بات کی realization ہے کہ ہندوستان کی مسلسل provocation اور jingoism پر برداشت اور restraint کو شاید ہندوستان پاکستان کی کمزوری سے تعبیر کر رہا ہے۔۔۔ میں اس بات کا قائل ہوں کہ ان مسائل کا حل آج یا آج سے سو سال بعد بھی صرف مذاکرات ہی ہیں لیکن مذاکرات برابری کی سطح پر ہوتے ہیں اور ہندوستان نے اس مرتبہ ایک نادر موقع برتری کے زعم میں کھو دیا ہے۔۔۔ پاکستان کے پاس اب اگلے چند سالوں تک واحد راستہ escalation ہے اور لڑائیوں میں escalation کی کوئی حد نہیں ہوتی۔
ہندوستان سے امن بدقسمتی سے آج کے حالات میں اینٹ کا جواب پتھر سے دیے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔۔۔ لیکن دو جوہری ہتھیاروں والے ملک جب اینٹ کا جواب پتھر اور پتھر کا جواب بندوق سے دینے لگیں تو کون جانے اس کا خاتمہ کہاں جا کر ہو۔۔۔ اور ہندوستانی سیاسی قیادت اور عوام سے زیادہ اس بات کا ادراک ان کی عسکری قیادت کو ہے۔۔۔
گو ایسا ہونا مشکل نظر آتا ہے پر اللہ کرے کہ ہندوستانی عوام اور سیاسی قیادت ہوش کے ناخن لے ورنہ اس خطے میں ایک بڑی جنگ imminent ہے اور اس کے نتیجے کی پیشن گوئی کوئی چاہ کر بھی نہیں کر سکتا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button