
خلیج اردو
اسلام آباد: قومی اسمبلی میں پیر کے روز مختلف اہم قانون سازی کے بل پیش کیے گئے جبکہ ایوان نے ملک کی سرحدی سالمیت کے دفاع پر مسلح افواج کو خراجِ تحسین پیش کرنے اور قومی اتحاد کی قرارداد بھی منظور کر لی۔
قومی اسمبلی اجلاس میں نیشنل سکول آف پبلک پالیسی ترمیمی بل طارق فضل چوہدری نے پیش کیا، جبکہ قیصر احمد شیخ نے آسان کاروبار ترمیمی بل پیش کیا۔ پٹرولیم ترمیمی بل علی پرویز ملک نے ایوان میں پیش کیا۔ انکم ٹیکس ترمیمی بل سعد وسیم کی جانب سے جبکہ اسلام آباد مقامی حکومت ترمیمی بل طلال چوہدری نے پیش کیا۔
اجلاس میں ملکی دفاع، اتحاد اور عوامی حمایت سے متعلق قرارداد بھی منظور کی گئی۔ قرارداد میں کہا گیا کہ ایوان اللہ تعالیٰ کے حضور شکر ادا کرتا ہے کہ اس نے پاکستان کو عزت، وقار اور سرحدی سالمیت کے تحفظ کی توفیق عطا کی۔ ایوان نے پوری قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی عوام نے تمام اختلافات سے بالاتر ہو کر قیادت کے پیچھے یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔
قرارداد میں پاکستانی افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور جرأت کو خراج تحسین پیش کیا گیا اور کہا گیا کہ افواج نے بھارت کی بلا اشتعال جارحیت کے خلاف ذمہ داری اور مناسب ردعمل دیتے ہوئے دفاع کیا۔ قرارداد میں ان شہداء کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا گیا جنہوں نے مادرِ وطن کے دفاع میں جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور ان کی قربانیوں کو قومی اتحاد اور حوصلے کی علامت قرار دیا گیا۔
ایوان نے ان ممالک کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے مشکل وقت میں پاکستان کی حمایت کی اور علاقائی و عالمی امن کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ قرارداد میں کہا گیا کہ خطے میں دیرپا امن صرف سنجیدہ اور منظم مذاکرات سے ممکن ہے۔
ایوان نے حکومت پر زور دیا کہ وہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے بین الاقوامی برادری کو متحرک کرے۔
قرارداد میں سندھ طاس معاہدے پر مکمل عمل درآمد اور پاکستان کے پانی کے حقوق کے تحفظ کو قومی سلامتی کا اہم جزو قرار دیا گیا۔ ایوان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ قومی مفادات کے تحفظ، امن، اتحاد اور عوام کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آئندہ بھی اپنا آئینی کردار ادا کرتا رہے گا۔






