پاکستانی خبریں

فوج عدلیہ کے فرائض سرانجام دے گی تو عوام کا اعتماد ختم ہو جائے گا، جسٹس مندوخیل اور جسٹس افغان کا تفصیلی اختلافی نوٹ جاری

خلیج اردو
اسلام آباد: سپریم کورٹ کے دو معزز جج صاحبان جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس نعیم اختر افغان نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل سے متعلق سپریم کورٹ کے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے 36 صفحات پر مشتمل تفصیلی اختلافی نوٹ جاری کر دیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ’’فوج کا کام ملک کا دفاع ہے، نہ کہ عدلیہ کے فرائض سر انجام دینا، اگر فوج عدلیہ کے فرائض سر انجام دینے لگی تو عوام کا ان پر اعتماد نہیں رہے گا۔‘‘

اختلافی نوٹ میں کہا گیا ہے کہ وہ اکثریتی ججوں کے فیصلے سے اتفاق نہیں کرتے۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے مقدمے چلانے کے عمل کو غیر آئینی قرار دیے جانے کے خلاف وفاقی اور دو صوبائی حکومتوں کی انٹرا کورٹ اپیلیں منظور کی تھیں، جس پر سات مئی کو اکثریتی فیصلہ آیا تھا۔ جسٹس مندوخیل اور جسٹس افغان نے ان اپیلوں کو مسترد کرنے کی رائے دی۔

اختلافی نوٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ سویلینز کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق کے برخلاف ہے۔ جج صاحبان نے کہا کہ حکومتوں کو فوجداری عدالتوں پر اعتماد نہیں رہا اور سیاسی نوعیت کے مقدمات کا بوجھ فوجی عدالتوں پر ڈال دیا گیا ہے، جو نہ صرف ناقابل فہم ہے بلکہ عدلیہ کی آزادی کو بھی چیلنج کرتا ہے۔

نوٹ میں کہا گیا ہے کہ فوجی عدالتوں کے افسران فوجی معاملات کے ماہر ہوتے ہیں، لیکن ان کے پاس عدالتی تجربہ یا دیوانی مقدمات کی تربیت نہیں ہوتی۔ ان عدالتوں کو سول عدالتوں کے مساوی نہیں سمجھا جا سکتا کیونکہ عام عدالتوں میں عدالتی تجربہ اور آزادی موجود ہوتی ہے۔

ججوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں دہشت گردی کے مقدمات کو سنجیدگی سے لینے کے بجائے فوجی عدالتوں پر انحصار کر رہی ہیں۔ عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ کسی کے خلاف ثبوت کے بغیر سزا دینا منصفانہ ٹرائل کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔

نوٹ میں اس سوال پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے کہ کیا آرمی ایکٹ کا سیکشن 2(1)(d) آئین کے آرٹیکل 8(3)(a) سے مطابقت رکھتا ہے، اور کیا اس کے تحت سویلینز کا فوجی ٹرائل ممکن ہے؟ ججز نے وضاحت کی کہ آرمی ایکٹ صرف مسلح افواج کے اہلکاروں پر لاگو ہوتا ہے، جبکہ سویلینز کے لیے عمومی قانون اور سول عدالتیں موجود ہیں۔

ججز نے مزید لکھا کہ 1973 کے آئین کے بعد فوجی عدالتوں کو سویلینز پر نافذ کرنا آئینی اصولوں کے منافی ہے، کیونکہ ریاست عوام کی نمائندہ حکومت کے ذریعے چلائی جاتی ہے، نہ کہ فوجی افسران کے ذریعے۔

نوٹ میں اس خیال کو مسترد کیا گیا کہ دہشت گردی کے خلاف فوجی عدالتیں واحد حل ہیں۔ ججز نے کہا کہ 21 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے ملنے والے اختیارات کے باوجود دہشت گردی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی، کیونکہ یہ فوجی افسران کا کام ہی نہیں کہ وہ مجرمان کو سزائیں سنائیں۔

نوٹ میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ کے سامنے پہلی بار یہ سوال آیا کہ آرمی ایکٹ کے تحت سویلینز کے خلاف مقدمات آئینی طور پر درست ہیں یا نہیں، اور عدالت کو 1973 کے آئین کی روشنی میں فیصلہ کرنا تھا۔ جج صاحبان نے کہا کہ فوجی عدالتوں میں بنیادی حقوق میسر نہیں ہوتے، اور سویلینز کو آزاد اپیل کا حق نہ دینا بھی آئینی خلاف ورزی ہے۔

انھوں نے نو مئی 2023 کے واقعات کے بعد فوجی عدالتوں سے سزا پانے والے سویلینز کی سزاؤں کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں متعلقہ سول عدالتوں میں بھیجا جائے، تاکہ تیزی سے قانون کے مطابق ٹرائل مکمل ہو سکے۔ جن افراد کو فوجی عدالتوں سے بری کر دیا گیا یا جنہوں نے سزا مکمل کر لی، انہیں مقدمات سے نکال دیا جائے۔

اختلافی نوٹ کے مطابق، فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کی قراردادوں اور آئین کے آرٹیکل 245 کے منافی ہے، اور اس سے عدالتی نظام اور فوج دونوں کے وقار کو نقصان پہنچتا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button