
خلیج اردو
منڈی بہاؤالدین: پنجاب کے ضلع منڈی بہاؤالدین میں عید کے روز آٹھ سالہ بچی کے لرزہ خیز قتل کا معمہ اس وقت حل ہوا جب پولیس نے تفتیش کے بعد بچی کی والدہ کو ہی مرکزی ملزمہ قرار دے کر گرفتار کر لیا۔ پولیس کے مطابق ملزمہ نے اعتراف جرم کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اس نے عید پر نئے کپڑوں کی خواہش ظاہر کرنے پر بیٹی کو جان سے مار دیا۔
مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ بچی کی والدہ کو گرفتار کر کے تفتیش کی گئی جس میں اس نے مبینہ طور پر اعتراف کیا کہ اس نے ڈنڈے کے تین وار کر کے بیٹی کو قتل کیا۔ واردات کے وقت پہنے گئے خون آلود کپڑے بھی گھر کی تلاشی کے دوران برآمد ہوئے، جبکہ جائے وقوعہ سے حاصل شواہد فرانزک ٹیسٹ کے لیے پنجاب لیب بھجوا دیے گئے ہیں۔
پولیس رپورٹ کے مطابق بچی سات جون کو اپنی والدہ کے ہمراہ رشتہ دار کے گھر گئی تھی، جہاں والدہ کے بقول بچی دکان پر چیز لینے گئی اور واپس نہ لوٹی۔ والدہ کی شکایت پر پولیس نے اغوا کا مقدمہ درج کیا، لیکن آٹھ جون کو قریبی گنے کے کھیت سے بچی کی خون آلود لاش ملی، جس پر معاملہ مشکوک ہو گیا۔
تفتیش کے دوران پولیس کو والدہ کے رویے پر شبہ ہوا، جب وہ اپنی بیٹی کی لاش دیکھنے تک نہ گئی۔ سی سی ٹی وی کیمروں میں بھی بچی کے دکان کی طرف جانے کے شواہد نہیں ملے۔ مزید تفتیش پر معلوم ہوا کہ والدہ نے بچی کی تصویر اپنے واٹس ایپ پروفائل پر لگائی اور والدہ (بچی کی نانی) کی قبر کی تصویر کو بھی اسٹیٹس پر لگایا، جو پولیس کے مطابق ایک اور غیر فطری عمل تھا۔
تفتیشی افسران کے مطابق ملزمہ نے بیان دیا کہ بچی نئے کپڑوں کی ضد کر رہی تھی، جس پر وہ اسے ایک گاؤں لے گئی اور رفع حاجت کے بہانے گنے کے کھیتوں میں لے جا کر تین بار ڈنڈے سے سر پر وار کر کے قتل کر دیا۔ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بچی کے سر پر تین گہرے زخموں کی تصدیق ہوئی ہے۔
ڈی پی او وسیم ریاض کے مطابق ملزمہ شدید ذہنی دباؤ اور مایوسی کا شکار ہے۔ مقتولہ بچی اس کے دوسرے شوہر سے تھی، جس سے اس کی علیحدگی ہو چکی تھی۔ پولیس نے اغوا کی ابتدائی ایف آئی آر کی ضمنی رپورٹ میں اب والدہ کو قتل کے الزام میں دفعہ 302 کے تحت نامزد کیا ہے، جبکہ مقتولہ کے والد نے مدعی بننے کے لیے عدالت سے رجوع کر لیا ہے۔






