
خلیج اردو
اسلام آباد: 10 جون
پاکستان کی خاتون اول بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے طالبہ ثناء یوسف کے سفاکانہ قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد کی ایک اور دردناک مثال قرار دیا ہے۔ انہوں نے اس المناک واقعے پر ثناء یوسف کے ورثا، برادری اور متاثرہ خاندان سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔
بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے اس افسوس کا اظہار کیا کہ ثناء یوسف کے قتل کے بعد سوشل میڈیا پر مقتولہ کی کردار کشی کی جا رہی ہے، جسے ایک ظالمانہ اور دقیانوسی سوچ کی پیداوار قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ثناء یوسف کو خواب دیکھنے، ترقی کرنے اور ایک روشن مستقبل کا حق حاصل تھا، اور اسے ایک آزاد اور محفوظ زندگی جینے کا بھی پورا حق حاصل تھا۔
انہوں نے کہا، "جو کچھ ثناء یوسف کے ساتھ ہوا، وہ صرف ایک پرتشدد واقعہ نہیں بلکہ ناں کہنے کی سزا تھی۔ یہ ہمارے معاشرے کے لیے باعثِ شرم ہے کہ ہم آج بھی مردانہ برتری کی سوچ سے جنم لینے والے تشدد کو ثقافت یا روایت کا نام دے کر جواز مہیا کرتے ہیں۔”
بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے سوال اٹھایا کہ اگر کسی لڑکی کا ٹک ٹاک استعمال کرنا جرم سمجھا جائے، تو کیا پاکستان کی کروڑوں لڑکیاں خطرے میں ہیں؟ انہوں نے واضح کیا کہ کوئی موبائل ایپ، تصویر یا ویڈیو کسی قتل کا جواز نہیں بن سکتی۔
انہوں نے پاکستانی لڑکیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، "آپ خاموش نہ ہوں، آپ کو خواب دیکھنے، بات کرنے اور بے خوف زندگی گزارنے کا پورا حق حاصل ہے۔ اگر آپ پیچھے ہٹیں گی تو یہ سوچ جیت جائے گی جو عورتوں کو ان کی آزادی کی سزا دیتی ہے۔






